خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد 17 347 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء رہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے خدا کو کچھ دینے کی ، وہ غنی سب کچھ دے سکتا ہے وہ واقعۂ کر کے بھی دکھائے گا پھر۔جماعت کی ضرورتیں لازماً پوری ہونگی۔یا ان لوگوں میں پاک تبدیلیوں کے نتیجے میں جو جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں یا ان کو چھوڑ کر اللہ ایک نئی قوم لے آئے گا اور وہ مالک ہے اور خالق ہے وہی لوگوں کے حالات بدل سکتا ہے۔پس وہ لوگ جو ہم سے اس وقت باہر ہیں بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو لے آئے اور ہم ان سے پیچھے رہ جائیں۔یہ وہ وارننگ ہے جس کو جماعت احمد یہ جرمنی کو بھی اپنے اوپر اطلاق کر کے دیکھنا چاہئے۔وارنگ سے مطلب ہے انتباہ ، آپ کے اندر ایسی قو میں پیدا ہو رہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی میں بہت آگے بڑھ رہی ہیں۔بعض ایسے نئے آنے والے ہیں اگر چہ بہت زیادہ نہیں مگر بعض ایسے ہیں جن کی مالی قربانی پر مجھے رشک آتا ہے۔نہایت تنگی ترشی میں زندگی بسر کرنے کے باوجود بعض ایسے ہیں جو پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے کوئی احسان کیا ہے اور ایسے ہیں جن کے حالات پہلے اچھے نہیں تھے مگر یہ کرنے کے بعد ان کے حالات بہتر ہوئے اور بہتر ہوتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ ان کی قربانی کا معیار بھی بڑھتا گیا۔پس یا درکھیں اگر خدانخواستہ، اگر خدانخواستہ جماعت جرمنی کے ان احمدیوں کو جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنائے جائیں اور ان کے حالات اچھے کر دئے جائیں یہ گمان گزرے کہ یہ جماعت ہم پر چل رہی ہے ، ہمارے چندوں کی محتاج ہے تو اللہ ان کو دور کر دے گا۔ہو سکتا ہے ان کا انجام احمدیت پر نہ ہو اور ان کی جگہ دوسرے ایسے ضرور لے آئے گا جو ان پر ثابت کر دیں کہ جماعت کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔اللہ ہی ہے جو ضرورتیں پوری کرنے والا ہے اور جیسے چاہے اسی طرح وہ ان ضرورتوں کو پوری کر سکتا ہے۔یہ تشریح تو ہے مگر مختصر تشریح ہے اس آیت کی جو آپ کے سامنے میں نے تلاوت کی۔اب میں ایک حدیث نبوی صلی ہی تم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں بلکہ اس کے بعد ایک اور حدیث نبوی صلی یہ نام آپ کے سامنے رکھوں گا جس میں اسی مضمون کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل للہ یہ تم نے اپنے ایک الگ رنگ میں بیان فرمایا ہے۔حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اشیا کی تم نے فرمایا: