خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد 17 342 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء مقصد کیا تھا ، اس کے بنانے کا مقصد کیا تھا، اس کی استقامت اس مقصد کے مطابق ڈھالی جائے گی یعنی اس کی استقامت کی صلاحیتیں جو اس کا مقصد تھا اس کے مطابق بنائی جانی ضروری ہیں۔انسان کے وجود کی علت غائی یہ ہے کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی درحقیقت خدا کے لئے ہو جائے۔“ پیدا کرنے کی غرض یہ تھی کہ ہمیشہ خدا کی عبادت کرے، ہمیشہ اس کی پیروی کرے۔اگر اس غرض کے مطابق وہ ہو جاتا ہے تو یہ اس کی استقامت ہے۔محض راہ کی تکلیفوں کو برداشت کرنا استقامت کا نام نہیں ہے۔یہ تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہمیں بتلا رہی ہے کہ اگر ہم عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے تھے تو ہماری استقامت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سارا وجو د عبادت کی خاطر خاص ہو جائے اور کلیۃ اللہ کا ہو جائے۔اور جب وہ اپنے تمام قولی سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلاشبہ اس پر انعام نازل ہوگا جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔“ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ :345،344) صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں اَنْعَمتَ عَلَيْهِمُ کا ترجمہ ہے : ” تو یقیناً اس پر انعام نازل ہوگا۔“ اب انعام کا عام معنی یہ لیا جاتا ہے کہ اس کو کئی قسم کی نعمتیں ملیں گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ معنی نہیں فرما ر ہے ” جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں، یعنی انعام سے مراد ہی پاک زندگی ہے۔جب خدا کی طرف سے پاک زندگی مل گئی تو یقین کرو کہ یہ انعام ہے اور اگر پاک زندگی نہیں ملی اور دنیا کی نعمتیں ملی ہیں تو محض اس دھو کے میں مبتلا نہ رہنا کہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جس نے ثابت کر دیا کہ آپ صراط مستقیم پر قائم تھے۔پس پاک زندگی اصل مقصود ہے، اصل مطلوب ہے اگر پاک زندگی ہم سب کو نصیب ہو جائے تو یہی زندگی کا وہ مقصد ہے جو ہم نے پالیا پھر ہم یہ کہتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کر سکتے ہیں کہ فُرتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ خدا کی قسم ، میں رب کعبہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ میں کامیاب ہو گیا۔اللہ ہمیں یہ کامیابی عطا فرمائے۔آمین