خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد 17 341 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء جن پر سے موت اٹھالی گئی ہو، جن کو ہمیشہ کی بقاء کا وعدہ دے دیا گیا ہو یعنی خدا کی طرف سے ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قومی کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے۔اور حقیقی نیکی (کے ) بجالانے میں سرگرم رہے۔سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حزن سے نجات بخشے گا۔یادر ہے کہ یہی اسلام کا لفظ کہ اس جگہ بیان ہوا ہے دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے۔“ میں نے عرض کیا تھا کہ پہلے جو لفظ استقامت گزرا ہے اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ہی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔پس اس اقتباس کے بعد میں اس خطبہ جمعہ کوختم کروں گا۔فرمایا: دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ یہ دعا 66 سکھلاتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔“ یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر اور ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا۔ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ تھی جو انبیاء تھے اور ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ تھی جو صدیق تھے جو کامل وفا کے ساتھ اپنے انبیاء کے پیچھے چلتے رہے اور ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ تھی جنہوں نے اس راہ میں ہی جان دے دی اور اس راہ سے ہٹے نہیں اور وہ صالحین ہی بھی اس استقامت کی راہ پر تھے جو اس قافلے کے پیچھے پیچھے آرہے تھے مگر تھے اسی قافلہ کا حصّہ۔وہ آگے تو نہ بڑھ سکے مگر پہلوں کی قدموں کی خاک چومتے ہوئے اُسی راہ پر انہوں نے اپنی زندگی ختم کی۔فرمایا یہ ہے استقامت کی راہ۔دعا کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ ہے: ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ، ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے سمجھی جاتی ہے۔“ اب یہ بہت گہرا کلام ہے جسے لازماً سمجھائے بغیر آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے سمجھی جاتی ہے۔استقامت کے لئے پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس چیز کا