خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد 17 340 اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں۔“ خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء ( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ : 416) اب یہ خیال نہ گزرے کہ کوئی خیالی شیطان ہے جس سے ہر آدمی سمجھتا ہے میں بچا ہوا ہوں۔اس کے گردو پیش، اس کے ماحول میں ، اس کو برے کاموں کی طرف بلانے والے وہ شیطان ہیں۔پس جس نے اپنی گردن خدا کی راہ میں دے رکھی ہو وہ ان کی باتیں کب سنے گا وہ ان کو مردود کر کے اپنی طرف سے ہٹادے گا ایسے لوگوں کی دوستی کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ سب کچھ تو خدا کے حضور انہوں نے پیش کر رکھا ہو اور اس میں سے حصہ مانگ رہے ہوں۔ایسے ہی لوگوں کے لئے اَعُوذُ بِالله مِن الشَّيْطنِ الرَّحِيم کا کلام ہمیں سکھایا گیا کہ تلاوت سے پہلے ضرور پڑھ لیا کرو کیونکہ جب تلاوت کرتے ہو تو گویا خدا کے ہو جاتے ہو اور شیطان کوشش کرے گا کہ تمہارا کوئی حصہ بھی خدا کے فضل سے باہر رہ جائے اور یہ اسے اچک لے۔پس وہ لوگ زندہ آپ کے ارد گرد پھرتے ہیں، آپ ان کو جانتے ہیں، دیکھتے ہیں، ان سے مراسم رکھتے ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف بھی آپ کو تعلیمیں دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ جھوٹ بولو تو یہ فائدہ ہو جائے گا یہاں پیسہ لگاؤ خواہ پیسہ لگا نا حرام ہو اس سے فائدہ پہنچے گا اس طرح رزق کماؤ۔یہ حقائق ہیں روز مرہ گزرنے والے حقائق ہیں، کوئی فرضی باتیں نہیں ہیں۔آپ ان کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے نہیں۔پس جس نے خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈالی ہو وہ ضرور پہچانے گا۔اس آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھیں اور خود اپنا اپنا جائزہ لیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے (نہ اس کی گردن اپنی رہی نہ اس کے پاؤں کے ناخن اپنے رہے کچھ بھی باقی نہ رہا) اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو۔سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا۔“ ایسے شخص کو قرب الہی کے سرچشمہ سے پلایا جائے گا جس کو ہم کوثر کہتے ہیں یہ وہی کوثر ہے اللہ کے قرب کا سر چشمہ، جس کو یہ سر چشمہ نصیب ہو جائے اسے ایک آب حیات اور آب بقامل گئی۔ایسے شخص پر کبھی موت وارد نہیں ہوا کرتی۔اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم (ہے)۔“