خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد 17 315 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے تعمیل علمی مشکل ہے۔اب یہاں آ کر نہیں رہتے کا جواب تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں MTA کے ذریعہ دے دیا ہے۔فرماتے ہیں: ”بار ہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔یہ اب بھی ہوتا ہے اور ہر ایسے سائل کو میں جواب دیتا ہوں کہ آپ اگر MTA پر ایسے پروگراموں کا مطالعہ کرتے جن میں علمی سوالات کے جواب دئے گئے ہیں تو اتنی کثرت کے ساتھ مختلف سوالات کے ہر پہلو پر مختلف وقتوں میں بحث کی گئی ہے کہ اس کثرت کو دیکھ کر ڈر آتا ہے کہ اس سارے کو لوگ کیسے سن سکیں گے لیکن جب بھی سنیں گے ، جتنا بھی سنیں گے وہ یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حیران ہونگے کہ کسی دشمن کا کوئی بھی اعتراض باقی نہیں رہا جس کے ہر پہلو سے متعلق کوئی بات نہ ہو چکی ہو۔تو پھر خطوں کے ذریعہ مجھے پوچھتے ہیں کہ ہمیں لکھ کر بتاؤ۔میں کہتا ہوں کہ میرے لئے یہ تو بالکل ممکن نہیں ہے کہ میں آپ کے خط کے جواب میں دس ہزار صفحات کی ایک کتاب بھیج دوں اور نئی لکھواؤں۔وہ باتیں جو اکٹھی کی گئی ہیں اگر واقعہ ان کو تفصیل سے ساری مجالس کو ، ان میں درس قرآن بھی شامل ہے اس میں بھی بہت سے نکات بیان ہوتے ہیں ، اس میں ہر قسم کے پروگرام شامل ہیں یہاں تک کہ بچوں کے پروگرام بھی شامل ہیں، ان کو اگر اکٹھا کر کے لکھو تو واقعی کم از کم دس ہزار صفحات کی کتاب بنے گی۔تو کیسے ممکن ہے۔عجیب سوال کرتے ہیں۔لاعلمی ہے تو اتنی لاعلمی ہے کہ پتا ہی نہیں کہ ان سب باتوں کا جواب آچکا ہے۔کوئی پاکستان سے لکھ رہا ہے بچہ، سیالکوٹ کے کسی گاؤں سے کہ مجھے ان سوالات کے جوابات اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجیں اور وہ سوالات ایسے ہیں جن میں واقعۂ کم سے کم ایک ہزار صفحات کا خط مجھے لکھنا پڑے گا یا لکھوانا پڑے گا۔تو یہ بچگانہ باتیں چھوڑ دیں۔عقل سے کام لیں۔سارا مواد موجود ہے اور جس کو یہ بھی علم نہیں اس کی تکمیل عملی کیسے ہوگی؟ اس لئے جماعتوں میں اس علم کو شہرہ دینا ضروری ہے۔کثرت کے ساتھ اس علم کا انتشار کریں اور سب کو بتائیں کہ ہر قسم کے اعتراضات کے جواب ہیں۔صرف ان کو اپنی جماعت کے متعلقہ شعبہ کو یہ لکھنا ہے کہ ہمارے یہ سوالات ہیں ان کے جواب کہاں کہاں ملیں گے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ شعبہ ان کو بتا سکتا ہے۔اور یہ خیال نہ کریں کہ ایک مضمون کی ایک کیسٹ میں وہ ساری باتیں آجائیں گی۔اس لئے کم سے کم ہیں ،تیں، چالیس، پچاس کیسٹس ایسی ہوں گی جن میں تفصیل موجود ہے اور ہر کیسٹ میں کچھ نہ کچھ نئی باتیں ہیں۔