خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد 17 314 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء آپ اہمیت دے رہے ہیں۔سب سے پہلی بات آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ نیک کی صحبت اختیار کرو تو بغیر گفتگو کے بھی تمہارے دل میں نیکی سرایت کر جائے گی اور یہ رسول اللہ لایا کہ تم کا فیض ہے جو آج تک جاری ہے۔پہلے رسولوں میں یہ بات سنی نہیں تھی تھی تو کم کم ہوگی مگر خصوصیت سے اس کا ذکر نہیں ملتا۔آنحضرت سالی ایم کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیت اور امتیاز بخشا ہے اگر یہ آپ صلی نا ہی تم تک ہی ٹھہر جاتا تو تمام آنے والے زمانوں کو آپ سلایا کہ ہم کا فیض کیسے پہنچ سکتا تھا۔اس لئے یہ فیض صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہی نہیں پہنچا بلکہ کثرت کے ساتھ جو آپ مشاہدہ کرتے ہیں کہ دل کی نیکی دل پر اثر کر جاتی ہے یہ وہی فیض ہے اور عام ہو چکا ہے۔اس بات کو اب تفصیل سے بیان کرنے کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام علم کی ضرورت بھی بیان فرماتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا: وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِلٍ مين (الجمعة : 3) کہ محمد رسول اللہ صلی ایتم تزکیہ نفس کے بعد تعلیم کتاب اور کتاب کی حکمتیں بھی بیان فرماتے ہیں۔اب یہ مضمون جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع فرمایا ہے کہتے ہیں تکمیل علمی کے بعد تکمیل عملی کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک علوم میں انسان ترقی نہ کرے اس کا نفس ان اعمال پر تیار نہیں ہوتا جو اعمال علوم کے نتیجے میں خود بخود ظاہر ہونے چاہئیں۔فرمایا تم نیک عمل کیسے بنو گے اگر وہ علوم حاصل نہیں کئے جن کے نتیجے میں کوئی عمل بھی عطا ہوا کرتا ہے۔اگر علم سچا ہوا ور واقعۂ انسان کو نصیب ہو جائے تو اس علم کے بعد ایک معمل لازم ہو جایا کرتا ہے۔یہ حکمت کی بات ہے جو سمجھانے والی ہے۔آپ کو کسی چیز کے متعلق علم ہے کہ یہ میری صحت کے لئے اچھی ہے تو آپ اسے پرے نہیں پھینکیں گے۔آپ کا عمل آپ کے علم کی سچائی کو اس طرح ظاہر کرے گا کہ آپ اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔تمام انسانی جدو جہد علم کے نتیجے میں ہوتی ہے۔جب یہ علم ہو کہ ایک چیز ہمارے لئے بری ہے تو لاز ما از خود انسان اس سے پیچھے ہٹنے لگ جاتا ہے۔پس عمل کی تکمیل ، علم کی تکمیل کے ساتھ وابستہ ہے اور ہر علم ترقی کرتا ہے اور جوں جوں علم ترقی کرتا ہے ساتھ ساتھ عمل بھی ترقی کرتا ہے۔یہ حکمت کی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں فرما رہے ہیں ” پس تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے۔‘، ناممکن ہے۔ہے۔