خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 313
خطبات طاہر جلد 17 313 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء ا دعاؤں کا نتیجہ ہے۔اس بات کو اگر کوئی شخص بھلا دے تو انتہائی بے وقوف ہوگا اور وہ بالکل غلط اور باطل خیالات میں مبتلا ہو کر اپنا دین کھوسکتا ہے۔فرماتے ہیں: وو وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں سے جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے۔وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیز گار ہوں۔(یعنی ایسے بھی لوگ ہونگے جو متقی اور پرہیز گار ہیں مگر دور بیٹھے ہیں اور اپنے ہی تقویٰ میں گم ہیں۔مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہئے انہوں نے قدر نہیں کی۔میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیل عملی کی ضرورت ہے۔پس تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے۔(عملی تحمیل علمی تکمیل کے بغیر ناممکن ہے۔یہ مضمون ہے جو ذرا ٹھہر کر سمجھانے والا ہے۔فرمایا : ) پس تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔( یہ مراد ہے ) اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے۔پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خدا پر ایمان لاتے ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا ہوتا ہے۔کیا کونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ کا حکم منسوخ ہو چکا ہے؟ اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچی خوش قسمتی یہی ہے تو اللہ تعالیٰ کو مقدم کر لو۔اگر ان باتوں کو ر ڈی اور فضول سمجھو گے تو یا درکھو خدا تعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھہرو گے۔“ الحکم جلد 5 نمبر 31 صفحہ: 3 ، مؤرخہ 24 اگست 1901ء) اب میں دوبارہ اس حصہ کو لیتا ہوں جس کے متعلق میں نے کہا تھا ٹھہرا کر سمجھانے والی بات ہے۔آنحضرت صل اللہ الہ سلم کا مقام اور مرتبہ یہ تھا کہ بغیر علم عطا کئے بھی تزکیہ نفس فرماتے تھے اور وہی تزکیہ نفس کا مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی جاری ہوا۔پس آپ کی تحریر کا پہلا حصہ اُس سے متعلق ہے جہاں پاس بیٹھنے والے پر اثر پڑ رہا ہے، بغیر گفتگو کے اثر پڑ رہا ہے اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھولے نہیں ہیں۔یہ بظاہر خیال پیدا ہو کہ علمی تکمیل ہی کو