خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 312

خطبات طاہر جلد 17 312 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے۔پس یہ خیال دل میں پیدا ہونا کہ دُور بیٹھے اب کیا کریں گے۔اگر دور بیٹھے لوگ ٹیلی ویژن پر کم سے کم خطبہ سنے کا اہتمام کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کی یہ مراد پوری ہو جاتی ہے کہ وہ آئیں اور صحبت سے فیض یافتہ ہوں۔فرمایا: وو ” ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں“ الصلوة کہ خدا بھی چاہو اور دنیا بھی چاہو یہ محض خیال ہے۔محال ہے ، ناممکن ہے اور جنون ہے۔پس یہ دو چیزیں اکٹھی نہیں چل سکتیں۔اگر خدا چاہتے ہو تو خدا چاہنے کے لئے جو نقاضے ہیں وہ تقاضے پورے کر واگر دنیا چاہتے ہو تو دنیا کی طرف منہ کر لومگر یہ بین بین کا رستہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔دنیا چاہتے ہوئے خدا چاہتے ہو تو پھر لازماً رفتہ رفتہ دنیا سے دور ہٹنا اور خدا کی طرف آگے بڑھنا لازم ہوگا۔فرماتے ہیں: دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت ہو پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دین داری کے حصول کی اُمید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر ر ہیں اور فائدہ اٹھا ئیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔“ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ جو مضمون بیان فرما ر ہے ہیں یہ اُس زمانہ کی باتیں ہیں جبکہ احمدیت کا آغاز تھا اور لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہمیت کا پورا احساس نہیں تھا۔دور بیٹھے کبھی طاعون کے اثر سے کبھی کوئی اور نشان دیکھ کر بیعت تو کر لی مگر دل میں وہ غیر معمولی پاک تبدیلی پیدا نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں بے اختیار وہ کشاں کشاں قادیان کی طرف چلے آئیں۔ایسے لوگوں کی بے اعتنائی کے اوپر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو افسوس فرمایا ہے آج آپ لوگ اس بے وقوفی میں مبتلا نہ ہوں کہ آج کے لوگ نئے آنے والے پہلوں سے بہت بہتر ہیں اور یہ ہمارے زمانہ کی پہلے زمانوں پر ایک فضیلت ہے۔اگر بہتر ہیں تو وہ درد جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اُس وقت پیدا ہوا ہے جب تقریر فرمارہے تھے ، وہ درد ہے جو خدا نے قبول فرمایا ہے۔پس سو فیصدی ہم آپ ہی کی جوتیوں کے غلام ہیں اور آج جو حیرت انگیز معجزے دیکھ رہے ہیں یہ ان