خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 299
خطبات طاہر جلد 17 299 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء کے اندر شامل نہیں ہوتے کہ خود وہ بھی قابل تعریف ٹھہریں اور جب اندر ہونگے اور قابل تعریف ٹھہریں گے تو سچوں کے ساتھ ہونے کے نتیجے میں وہ بھی خدا نما بن جائیں گے۔ان کی طرف انگلی نہیں اٹھے گی وہ انگلی خدا کی طرف اٹھ رہی ہوگی۔فرمایا: مامور من اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کرسکتا۔“ ایک اور بہت اہم نکتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کا بیان فرمایا ہے جس کے متعلق پہلے مجھے تو خیال نہیں آیا تھا لیکن شاید کسی اور کو خیال آیا ہو، بہت عمدہ نکتہ ہے۔جہاں تک میں نے تفاسیر دیکھی ہیں اس نکتہ کو پہلے کسی نے بیان نہیں کیا۔فرماتے ہیں : ” مامور من اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کر سکتا۔“ مامور من اللہ کے بھی اپنے مزاج ہوتے ہیں یا اپنی اس کی کیفیات ہوتی ہیں اور وہ کیفیات ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔کبھی ایک کیفیت ہے کبھی دوسری کیفیت ہے۔کبھی جذب کا ایک خاص عالم ہے کبھی علم اور فلسفہ کی باتیں بیان کرتا ہے۔تو فرمایا كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ کا مطلب ہے ایسے بزرگ سے چمٹے رہو جو خدا سے چمٹا ہو کیونکہ وہ کچھ نہ کچھ باتیں کبھی نہ کبھی نئی ضرور بیان کرے گا اور تم ان باتوں سے محروم رہ جاؤ گے۔یہ جومضمون ہے یہی مضمون حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوپر صادق آ رہا ہے۔اپنی ساری زندگی جو بقیہ تھوڑی سی زندگی تھی یعنی اسلام قبول کرنے کے بعد جو ان کی باقی ساری زندگی تھی وہ مسجد سے چھٹے رہے۔صرف یہ حرص تھی کہ آنحضرت سلیم کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی بات بھی ایسی نہ ہو جو میں خود نہ سن سکوں۔اپنی ساری عمر کی ساری دوری کی تلافیاں فرما دیں اور چند سالوں میں آنحضرت صلی ایام سے وہ فیض پاگئے جو بعض دوسرے بڑے بڑے صحابہ کو بھی نصیب نہیں ہوا۔کبھی کسی صحابی سے اتنی روایات بیان نہیں کی گئیں جتنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کی گئی ہیں حالانکہ ان کا وقت آنحضرت صل للہ یہ تم کی صحبت میں تھوڑا تھا۔آخری عمر میں ایمان لائے تھے اور چند سال سے زیادہ آپ کو توفیق نہیں ملی مگر ہر وقت تیار رہتے تھے کہ رسول اللہ سلام کے منہ سے جو موتی جھڑیں اسے اپنے دامن میں چچن لیں۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں مامور من اللہ ہمیشہ ایک جیسی باتیں نہیں کرتا۔کبھی کوئی نکتہ بیان کر رہا ہے کبھی کوئی نکتہ بیان کر رہا ہے۔وہ لوگ جو دور رہنے کے عادی ہوں اکثر نکات سے محروم رہ جائیں گے۔دوسری بات آپ یہ فرماتے ہیں: