خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد 17 298 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء یہ وہ فقرہ ہے جس کو بہت احتیاط سے جانچنے اور پر کھنے کی ضرورت ہے۔اس کی حقیقت کو سمجھنے میں اگر ادنی سا بھی فرق کیا گیا تو ایسا شخص شرک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔جتنی صوفیاء کی تحریکات چلی ہیں وہ بالآخر اسی شرک میں مبتلا ہو گئیں کہ وہ بزرگ جن کو دیکھ کر خدا یاد آیا کرتا تھا کسی زمانہ میں اس بزرگ کو دیکھ کر وہ بزرگ ہی یاد آنے لگ گیا اور خدا کا تصور غائب ہو گیا۔ایسے لوگ خدا رسیدہ نہ بن سکے بلکہ بزرگوں کا خیال کر کے اسی تصور میں مگن رہے اور اللہ کا یاد آنا بھلا بیٹھے۔پس آنحضرت صلی ا تم جن بندگان خدا کے اندر خدا دکھا رہے ہیں وہ وہ تھے جن کو دیکھ کر وہ بندے یاد نہیں رہتے تھے ، خدا ہی یاد آتا تھا۔جتنے صحابہ تھے ان کو دیکھ کر یہ نہیں تھا کہ کسی کو فلاں صحابی سے عشق ہو گیا، کسی کو فلاں صحابی سے عشق ہو گیا۔سارے صحابہ میں ، جیسے أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فرمایا ہے، سارے صحابہ میں وہ خدا کی روشنی تھی اور ہر ایک کو دیکھ کر خدا یاد آتا تھا اور سب کو دیکھ کر بھی خدا یاد آتا تھا۔تو ایسا خدا نمانہ نہیں کہ آپ اپنی ذات کو اُچھال دیں اور آنے والے آپ کو دیکھ کر آپ کے مداح تو ہو جائیں مگر مسیح موعود کو آپ میں نہ دیکھ سکیں اور خدا کو آپ کی ذات میں نہ دیکھ سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور خدا تعالیٰ کا ارشاد كُونُوا مَعَ الصّدِقِيْنَ اس پر شاہد ہے۔( کہ تم سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔یہی جو میں نے آیت پڑھی ہے اسی آیت کے حوالے سے فرما رہے ہیں۔) خدا تعالیٰ کا ارشاد كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ اس پر شاہد ہے۔یہ ایک ستر ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ اب دیکھنے میں تو ظاہری بات ہے سیچوں کے ساتھ ہو جاؤ اس میں ستر کیا ہے۔فرمایا اس میں ایک راز ہے تھوڑے ہیں جو اسے سمجھتے ہیں اور یہی میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سچوں کے ساتھ ہوں تو اس شرط کے ساتھ ہوں کہ آپ کو سچوں کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور آپ کو دیکھ کر دوسروں کو خدا یاد آئے۔اس طرح كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ ہو سکتے ہیں ورنہ كُونُوا مَعَ الصّدِقِيْنَ نہیں رہیں گے، باہر بیٹھے ان کی تعریفیں کر رہے ہوں گے۔بہت ہی اہم نکتہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے اور اسی لئے فرمایا اس میں ایک راز ہے اس راز کو نہیں سمجھو گے تو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔اکثر لوگ جو سچوں سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ باہر بیٹھے ان کی تعریفیں کر رہے ہوتے ہیں ان