خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد 17 297 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء جماعت کے ممبران کے ذریعہ نصیب ہو سکتا ہے جو تبلیغ میں ایک ذریعہ بنے ہوئے ہیں، براہ راست غائب کا تصور مشکل ہے۔غائب کا قرب خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کسی ذریعہ کو چاہتا ہے اسی لئے اللہ کا قرب حضرت اقدس محمد مصطفی مستی نہ ہی ہم کے قرب کو چاہتا ہے اس لئے کہ آنحضرت سیل پہ ہم کو دیکھا تو خدا کو دیکھا کیونکہ رسول اللہ علیہ السلام کی صفات میں خدا جلوہ گر ہے۔پس یہ بہت ہی اہمیت کا مضمون ہے۔جس کو آپ قریب سے دیکھیں وہ آپ کے دل پر قابض ہو جاتا ہے۔اللہ کو آپ براہ راست قریب سے دیکھ نہیں سکتے۔اس لئے ضروری تھا کہ اس کا کوئی وسیلہ ہو جسے قریب سے دیکھیں تو اس کی محبت آپ پر غلبہ کرے مگر وہ محبت ایسی ہو کہ اس کے غلبہ کے ساتھ اللہ کی محبت از خود غلبہ کر جائے۔یہ وہ مضمون ہے جو آج بھی اسی طرح اہمیت رکھتا ہے اور آپ سب میں اگر مسیح نمائی کی صفات موجود نہ ہوں یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دکھانے کی صفات موجود نہ ہوں تو آنے والے جیسے سوکھے آئے تھے ویسے سوکھے چلے جائیں گے اور ان کا کوئی بھی مستقل گہرا تعلق جماعت احمدیہ سے قائم نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ فرمایا ” جیسا تہی دست آیا تھا تہی دست جاتا ہے۔“ وو یہ فضل اور برکت صحبت میں رہنے سے ملتی ہے۔رسول اللہ صلی یتیم کے پاس صحابہ بیٹھے آخر نتیجہ یہ ہوا رسول اللہ صلی لا الہ سلم نے فرمایا کہ اللهُ اللهُ فِي اَصْحَابِی اللہ ہی اللہ ہے میرے صحابہ کے اندر کتنا عظیم الشان تعریف کا فقرہ ہے جو صحابہ کے حق میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی شمالی تم نے بیان فرمایا : الله الله فی اصحابی۔میرے صحابہ میں اللہ ہے، اللہ ہے جس نے اللہ کو ڈھونڈنا ہے تو میرے صحابہ کو دیکھے۔فرماتے ہیں: گویا صحابہ خدا کا روپ ہو گئے۔“ اور جو بات میں نے بیان کی تھی اس میں صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ہی تم ہی روپ نہیں تھے بلکہ جن جن پر حضرت رسول اللہ صلی شما اینم کی محبت غالب آئی وہ بھی خدا ہی کا روپ ہو گئے۔یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ اُن کو ملتا اگر دور ہی بیٹھے رہتے۔“ یعنی یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ صحابہ جن کی تعریف میں فرما یا گیا اللہ اللہ وہ رسول اللہ صلی ایلیم سے دور بیٹھے رہتے اور ان کو یہ درجہل جاتا۔یہ بہت ضروری مسئلہ ہے خدا (تعالی) کا قرب بندگانِ خدا کا مقرب ہے۔“