خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد 17 295 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء آنحضرت صلی اللہ السلام نے خدا تعالیٰ کی محبت کے ذکر میں حضرت داؤد علیہ السلام کی ایک دعا کو حرز جان بنایا ہوا تھا۔ آنحضرت صلی لا الہ ہم کو یہ دعا بہت ہی پیاری تھی اور انہی الفاظ میں یہ دعا کیا کرتے تھے ۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء یعنی ابودرداء سے روایت ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ علیہ السلام کہ داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ کہ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ وَالعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اور ایسے عمل کی محبت چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔ کیسا پیارا مضمون ہے اور بہت جانچ تول کے بیان فرمایا گیا ہے۔ ایسے عمل کی محبت چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔ وہ تجھ سے مانگتا ہوں ۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اے میرے اللہ ! اپنی محبت کو بنادے۔ أَحَبُّ إِلى میرے لئے سب سے زیادہ پیاری۔ من نفسی اپنے نفس سے بھی زیادہ پیاری ۔ وَ أَهْلِي اور اپنے اہل سے بھی زیادہ پیاری ۔ وَمِنَ الْمَاءِ البَارِدِ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ پیاری “ 66 (جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر :3490) یہ جو آنحضرت صلی السلام نے ہمیں دعا سکھائی ہے میں تعجب کیا کرتا تھا کہ اس میں آپ مالی یہ کام نے حضرت داؤد کی طرف واحد کا صیغہ استعمال فرمایا اور جمع کا نہیں ۔ واحد کے صیغہ میں صرف اپنے لئے دعا بنتی ہے اور جمع کی صورت میں سب کے لئے دعا بن جاتی ہے۔ اتنی پیاری دعا سب کے لئے کیوں نہ مانگی۔ دراصل حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لہ السلام کے وجود میں جب وہ انی کہتے ہیں تو وہ سارے جو آپ سلال الاسلام کے پیروکار ہیں، جو حقیقت میں آنحضرت صلی لا کہ ہم سے گہرا تعلق رکھتے ہیں وہ بھی شامل ہو جاتے ہیں اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بعض دفعہ آپ صلی اللہ السلام کو اکیلے کو مخاطب فرمایا اور سارے مسلمان آپ صلی الی السلام کے پیرو کار اس خطاب میں شامل ہو گئے۔ تو اس مضمون کو سمجھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی شما ای لیم جب اپنے لئے دعا مانگتے ہیں یا حضرت داؤد نے جب اپنے لئے دعا مانگی تو بحیثیت نبی اللہ ہونے کے ان کے متبعین اور ان سے سچی محبت کرنے والے اس دعا میں شامل ہوتے تھے۔