خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد 17 294 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء کی خاطر کرے۔اب ظاہر بات ہے کہ ایسی صورت میں بیوی کا انتخاب اور خاوند کا انتخاب بھی اللہ کی خاطر ہی ہوگا اور اگر آپ غور کر کے دیکھیں تو ہمارے معاشرے کی بہت سی بدیاں صرف اس نصیحت پر عمل کرنے سے دور ہو سکتی ہیں اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔اکثر لوگ شادی کر تے وقت یہ نہیں دیکھتے۔خوبصورتی دیکھنا، اچھا خاندان دیکھنا اپنی جگہ مگر یہ نہیں دیکھتے کہ پہلی شرط اس میں پوری ہے کہ نہیں کہ وہ لڑکی اللہ والی ہے کہ نہیں یا وہ مرد اللہ والا ہے کہ نہیں۔اگر یہ شرط پوری ہو جائے تو اس کے پیچھے پیچھے دوسری بعض اچھی باتیں بھی مل جائیں تو بہت بہتر ہے، اُن کا انکار نہیں ہے مگر جب اس شرط کو آپ اوّلیت دیں گے تو اس کی محبت میں ہمیشہ اللہ کی محبت کا خیال غالب رہے گا اور اس وجہ سے معاشرہ انتہائی طور پر پاکیزہ اور دلکش ہو جائے گا۔دوسرے یہ کہ صرف اللہ کی خاطر کسی سے محبت کرے اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے کفر سے نکل آنے کے بعد پھر کفر میں لوٹ جانے کو اتنا نا پسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔“ (صحيح البخاری، کتاب الایمان، باب حلاوة الايمان ، حدیث نمبر : 16) یہ جو بڑے بڑے ابتلاء جماعت پر آرہے ہیں ان کو یہ آخری بات خاص طور پر پیش نظر رکھنی چاہئے اور ان ملکوں میں بھی جو آزاد ملک کہلاتے ہیں یہی کچھ ہو رہا ہے۔کثرت کے ساتھ ایسی خبریں ملتی ہیں کہ یہاں یا ہالینڈ میں یا جرمنی میں ایسے لوگ جو اپنے ماحول میں معزز سمجھے جاتے تھے جب انہوں نے احمدیت کو قبول کیا تو ان کو زبردستی پکڑ کے مولویوں کے پاس لے کر گئے اور بعض دفعہ شدید بدنی تکلیف پہنچائی گئی۔اتنی کہ بعض دفعہ جینے مرنے کا سوال پیدا ہو جا تا تھا۔تو یہ جو رویہ ہے یہ ہر جگہ ہے صرف پاکستان میں نہیں۔پاکستان میں تو حد سے زیادہ ہے مگر باقی ملکوں میں بھی موجود ہے۔اس وقت آنحضرت ملایا کہ تم کا یہ ارشاد پیش نظر رکھیں کہ وہ اپنے پہلے حال کی طرف واپس لوٹنے کی بجائے یہ زیادہ پسند کرے کہ اسے وہاں آگ میں جھونک دیا جائے ورنہ اس کے نتیجہ میں وہ آگ ہوگی جو ہمیشگی کی آگ ہے۔تو آگ میں ڈالے جانے کو زیادہ پسند کرے یا جتنا آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے اس سے زیادہ اس بات کو نا پسند کرے کہ وہ اپنے پہلے غلط خیالات کی طرف لوٹ جائے۔