خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 293

خطبات طاہر جلد 17 293 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء بدوں کی صحبت کا تصور بھی کر سکتے ہوں۔ایک اور روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے۔انہوں نے کہا: يَا رَسُولَ اللهِ : أَنى جُلَسَائِنَا خَيْرُ ؟ کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ یہی تم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی ال ایم اکس کے پاس بیٹھنا بہتر ہے؟ اس کے جواب میں آپ مسی کہ تم نے فرمایا ایسے شخص کے پاس بیٹھنا مفید ہے جس کو دیکھنے کی وجہ سے تمہیں خدا یاد آوے۔“ (شعب الايمان، باب فى مباعدة الكفار والمفسدين، فصل في مجانبة الفسقة حديث نمبر : 9446) اب جن لوگوں کی یہ عادت ہو کہ ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھیں جن کو دیکھ کر خدا یاد آرہا ہو وہ اس مجلس میں جھانک کر بھی کیسے دیکھ سکتے ہیں جن کو دیکھ کر شیطان یاد آئے۔اس لئے دو متضاد باتیں ہیں۔انتہائی احمقانہ خیال ہے کہ کبھی کبھی دوسروں کی مجلس میں بھی چلے جاؤ جہاں شیطان کا ذکر خیر چل رہا ہو۔اس لئے خوب اچھی طرح آنحضور صلی ا یتیم کے ان الفاظ کو نہیں۔آپ صلی للہ یہ تم نے فرما یا ایسے شخص کے پاس بیٹھنا مفید ہے جس کو دیکھنے کی وجہ سے تمہیں خدا یاد آوے، جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو یعنی یاوہ گوئی نہ کر رہا ہو بلکہ جب کوئی بات کرے تو تمہارے علم میں، خواہ کیسا ہی علم ہو، اس میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔جس کے نیک عمل کے نتیجے میں تمہیں یہ خیال آئے کہ یہ تو آخرت کی تیاری کر رہا ہے میں نے کیا تیاری کی ہے۔؟ اس پہلو سے وہ بھی آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ ہو۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت ہے۔یہ روایت بخاری کتاب الایمان سے لی گئی ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی ہی تم نے فرمایا: دو تین باتیں ہیں جن میں وہ ہوں وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس کو محسوس کرے گا۔اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول باقی تمام چیزوں سے اسے زیادہ محبوب ہو۔دوسرے یہ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرے۔“ اب محبتیں تو انسان کرتا ہی ہے۔بغیر محبت کے تو انسانی زندگی ، زندگی ہی نہیں رہتی۔کسی نہ کسی چیز سے وہ ضرور محبت کرتا ہے۔مگر حضور اکرم سنی ہی تم نے یہ فرمایا ہے کہ اگر کسی انسان سے محبت کرنی ہو تو اللہ