خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 277

خطبات طاہر جلد 17 277 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء اس کی۔رسول اللہ لی ایم کی بات سچی ہے کہ تم جب دوست بناؤ تو غور کر کے دیکھو اچھا دوست بناؤ جس کے متعلق کبھی بھی بدی کی کوئی شکایت نہ ہو۔اچھے لوگ عرف عام میں پہچانے جاتے ہیں۔جواچھا انسان ہوا اچھے لوگوں کی مجلس پسند کرتا ہے، جو برا اور یاوہ گو ہووہ برے اور یاوہ گولوگوں کی مجلس کو پسند کرتا ہے۔تو اس طرح اپنی مجالس کا انتخاب کریں۔اگر آپ پاک لوگوں کی مجلس میں بیٹھیں گے اچھے لوگوں کی باتیں پسند آئیں گی تو آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صورت میں آپ کو اپنا قرب عطا کرے گا اور آپ کی جو سلوک کی راہیں ہیں وہ آسان فرما دے گا اور اگر اس کے برعکس نمونہ دکھانا ہے تو پھر جو لوگ دکھا چکے ہیں ان کو تو ہم نے مزیدخوستوں کا شکار ہی ہوتے دیکھا ہے۔شروع میں ان کی منافقت نے پردے ڈالے رکھے آخر ان کے چہرے بے نقاب ہو گئے اور اللہ تعالیٰ پھر کبھی بھی ان کو چھوڑتا نہیں۔اس لئے ایک نصیحت ہے جن لوگوں پر بھی اطلاق پاتی ہے ان کو سوچنا اور سمجھنا چاہئے۔آنحضرت صلی السلام کے متعلق بے ہودہ سرائی اور بکواس کرنے والوں کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رد عمل کیا تھا۔یہ آپ کے الفاظ میں آپ کو سنا تا ہوں۔فرماتے ہیں۔یہ عربی سے ترجمہ ہے۔عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ سی لا السلام کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعہ ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دُکھ نہیں پہنچا یا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک ملی یتیم کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے ( یعنی دل کو دکھانے والے طعن و تشنیع نے ) جو وہ حضرت خیر البشر صلی سیستم کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری