خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد 17 272 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء بہت سی احادیث نبوی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات جو میں آپ کو پڑھ کر سناؤں گا ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عام مروجہ ترجمہ درست نہیں ہے۔مروجہ ترجمہ یہ ہے: (اس کا وہ حصہ جو میرے نزدیک درست نہیں ہے میں آپ کو بعد میں سمجھاؤں گا۔)۔وَقَد نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الكِتب أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ أَيْتِ اللهِ ، الکتاب یعنی قرآن کریم میں بہت تاکید کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے۔وقد نَزِّلَ بہت تاکید کے ساتھ یہ بات بیان ہو چکی ہے۔ان إِذَا سَمِعْتُمْ أَيْتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار سنو یعنی بعض گروہ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔وَيُسْتَهزأ بها اور ان آیات سے تمسخر کرتے ہیں، ان سے تمسخر کیا جاتا ہے بعض لوگوں کی طرف سے۔فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُم تو ہرگز ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا۔اب اگلا حصہ ہے جو اختلافی معنی رکھ رہا ہے۔حتٰی يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں محو ہو جائیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسے لوگ ہیں جن کا کوئی گروہ ہے اس میں صاف واضح ہے کہ ایک گروہ ہے جو انتہائی بد بخت ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیات جس میں خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اور برگزیدہ بندے بھی شامل ہیں اُن پر مذاق اڑانا انہوں نے پیشہ بنا رکھا ہے۔ایسے لوگ جو ہیں کیا کوئی پسند کرے گا کہ بار بار جا کے دیکھے۔اُس مجلس میں جانے کی ضرورت کیا ہے جہاں سے ایک دفعہ اپنا دل اور سب کچھ اٹھا لیا۔کیا کوئی انسان تصور کر سکتا ہے کہ ان بدبختوں کی مجلس میں بار بار جا کے دیکھے کہ اب کچھ اور بات تو نہیں کر رہے؟ اگر اور بات کر رہے ہیں تو وہاں بیٹھ جائیں۔یہ جو منظر ہے یہ اس آیت کے عام سادہ ترجمہ سے ابھرتا ہے کیونکہ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِةٍ میں حتٰی کا معنی یہ لیا گیا ہے کہ یہاں تک کہ وہ دوسری بات شروع کر دیں تو جب بیٹھ کے آدمی اٹھ ہی جائے گا تو اس کو کیا پتا چلے گا۔میں جو مضمون بیان کرنا چاہتا ہوں وہاں حتی کا معنی Even کے معنوں میں ہے خواہ ایسے بد بخت لوگ دوسری باتیں بھی کریں تب بھی ہرگز ان کی مجلس میں نہیں جانا۔اگر ایسا کرو گے تو تم ان جیسے ہو جاؤ گے۔اس معنی کو عموماً اس لئے اختیار نہیں کیا جاتا کہ یہ معنی شاذ کے طور پر حٹی میں استعمال ہوتا ہے اور اہل لغت جیسے حضرت امام راغب ہیں، انہوں نے بڑی وضاحت سے اس کا محاورہ اہل عرب کے بیان کے مطابق بیان فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں حتی کی مثال :