خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد 17 16 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء سنبھالنے کے لئے استعمال کریں اور کثرت سے وقف جدید میں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھائیں خواہ تھوڑی قربانی کریں لیکن ان کو شامل ضرور کریں۔الحمد للہ جماعت اس طرف توجہ کر رہی ہے اور اب 2 لاکھ 22 ہزار 628 تک تعداد جا پہنچی ہے۔اب میں آخر پر پاکستان میں نمایاں وصولی کرنے والی جماعتوں کا ذکر کرتا ہوں۔پاکستان میں نمایاں وصولی کرنے والی جماعتوں میں پہلے نمبر پر کراچی ہے۔کراچی کے ساتھ گزشتہ سال شاید کچھ زیادتی ہوئی تھی ان کے اعداد و شمار یا ٹھیک پڑھے نہیں گئے یا وہ وقت پر بھجوا نہیں سکے۔ان کو پہلی حیثیت سے گرا کر غالباً دوسری میں کر دیا گیا لیکن بعد میں جو انہوں نے مجھے اعداد و شمار بھجوائے کراچی کا پہلا مرتبہ، پہلا مقام اسی طرح قائم تھا۔پس اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کراچی جماعت سارے پاکستان کی جماعتوں سے آگے بڑھ گئی ہے۔دوسرے نمبر پر ربوہ ہے اور ربوہ کی قربانیوں میں دراصل ساری دُنیا کے احمدی مہاجرین کی قربانیاں شامل ہیں اور اکثر ان کا چندہ باہر سے آنے والے روپے کی وجہ سے ہے اس لئے اس میں ساری دُنیا حصہ دار بن جاتی ہے مگر وہ ربوہ پہنچ کر پھر ادا ہوتا ہے اس لئے ربوہ کو بہر حال ایک مقام حاصل ہے۔تیسرے نمبر پر لاہور ہے۔یہ پہلی تین جماعتوں کا ذکر ہے۔اب پہلے دس اضلاع کا نام بھی سن لیں تا کہ آپ کی دعاؤں میں وہ شامل رہیں پھر میں اس خطبہ کو دعا کے ساتھ ختم کروں گا۔اسلام آباد یہ سارے اضلاع میں نمبر ایک پر ہے۔راولپنڈی تمام پاکستان کے اضلاع میں نمبر دو ہے۔یہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ باقی جو بہت سے اہم تربیتی اور دوسرے کام ہیں ان میں ان دونوں ضلعوں کو اتنی توفیق نہیں ملی ، وقف جدید میں کیوں ، کیسے مل گئی لیکن اللہ کا فضل ہے جس کو بھی نصیب ہو جائے۔اللہ تعالیٰ یہ مبارک کرے اور اس کے نتیجہ میں دوسرے ترقی کے میدانوں میں بھی ان کو آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا ہو۔آمین۔اب سیالکوٹ ضلع بھی عام طور پر پیچھے رہنے والے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے عظیم جھنڈے جو سیالکوٹ کی جماعت نے مسیح موعود کے زمانے میں اٹھائے ہوئے تھے ایک ایک کر کے اپنے گھروں میں رکھ دئے گئے اور آخر یہ ضلع عملاً دشمنوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔بڑی بڑی احمدیت کی مخالفت کی روئیں اس ضلع سے اٹھی ہیں جن کا پہلے زمانوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔تو اب میں اس ضلع کے پیچھے تو