خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد 17 267 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء ہمیں تمہارے فضلوں سے ذرہ بھی کوئی حسد نہیں ہے۔تمہارے فضلوں پر ہمیں یہ تکلیف ہوتی ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے۔یہ تکلیف ہوتی ہے اور یہ دعادل سے اٹھتی ہے۔مضمون تو اتنا کھلا ہے کہ جیسے دن چڑھ جائے۔احمدیت کی تائید میں اور کون سا سورج چڑھتا ہوا تم دیکھنا چاہتے ہو بالکل صاف کھلی کھلی باتیں ہیں لیکن عقل ہو تو یہ باتیں سمجھ میں آئیں۔مگر جن پر لعنت پڑ جائے ان کے متعلق اللہ فرماتا ہے لَعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیر اور انہی میں سے کچھ بدترین ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بندر اور سور بنا دیا ہے۔وَعَبَدَ الطاغوت اور طاغوت کی عبادت کر رہے ہیں یعنی جہاں بھی خدا کی بغاوت ہوگی اس کے پیچھے چلیں گے۔جہاں خدا کی بغاوت نہیں ہوگی اس کو چھوڑ دیں گے۔یہ عبدَ الطَّاغُوتَ کا مطلب ہے۔اولبِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَ أَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مکان سب سے شریر مکان ہے اس سے بدتر مکان ہو نہیں سکتا۔وَأَضَلُّ عَنْ سواء السبيلِ اور برے راستوں میں سے سب سے گمراہ رستہ یہ ہے یعنی ایک تو سَوَاءِ السَّبِيلِ ویسے ہی برا رستہ ہی ہوتا ہے مگر جو یہ حرکتیں کرے جن پر خدا کی لعنت پڑے جن کا سارا ملک تباہ و برباد ہو رہا ہو اور یہ اس کے لیڈر بنے بیٹھے ہوں جہاں فساد کا دور دورہ ہو جس میں سے امن کا نشان اڑ جائے۔یہ کہتے ہیں اللہ کا فضل ہم پر ہو رہا ہے اور احمدیوں پر لعنت پڑ رہی ہے۔پتا نہیں کونسی ڈکشنری ہے ان کے پاس جس میں فضل کی یہ تعریف اور لعنت کی وہ تعریف ہے۔اللہ فرماتا ہے انہی لوگوں میں سے ایسے ہیں جن سے بدتر مکان ہو ہی نہیں سکتا۔وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا أَمَنَا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ۔(المائدة:62) یہ جو مضمون ہے آپ لوگ حیران ہوں گے کہ ان پر کیسے صادق آتا ہے لیکن واقعہ آتا ہے۔ہر جگہ پاکستان میں مخبری کی خاطر اور جماعت کے لوگوں کو پکڑوانے کی خاطر لوگ آئے دن آکر کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور ایمان کے بعد جب ان کو تعلیم دی جاتی ہے ان کو کتا بیں دی جاتی ہیں تو وہ دوڑتے دوڑتے پولیس چوکیوں میں جاتے ہیں دیکھو جی لٹریچر تقسیم کر رہے ہیں تو یہی حرکتیں ان کی اس زمانہ میں بھی تھیں۔دُکھ دینے کی خاطر کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔وقد دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِه حالا نکہ وہ جب کہتے ہیں ایمان لے آئے تو کفر میں اور بھی زیادہ داخل ہو جاتے ہیں اور جب بھی ان کی ناپاک جانیں نکلیں گی۔خرجوا بہ اسی کفر کی حالت میں جان