خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد 17 266 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء یہ نحوستیں ہیں جو مسلمانوں کو کبھی نصیب نہیں ہو ئیں ، جو آنحضرت سلیم کے زمانہ میں مسلمانوں کی صورتوں سے عنقا تھیں۔نام ونشان نہیں تھا ان صورتوں کا ، اس کردار کا جو تم لوگ کر رہے ہو جس کی وجہ سے چہروں پر سیاہی ملی جارہی ہو۔قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَلِكَ مَثْوبَةٌ عِنْدَ اللهِ ان سے کہہ دو کہ کیا تمہیں میں اس سے بھی زیادہ ایک ناپسندیدہ بات نہ بتاؤں جو اللہ کے نزدیک بہت ہی بری ہے۔مَنْ لَعَنَهُ اللهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَبِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَ أَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ۔(المائدة: 61) تم کس بات کا انتظار کر رہے ہو۔ان حرکتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی ای یام کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کرتے ہوئے غیر انسانی حرکتیں ، جانوروں سے گری ہوئی حرکتیں ، بندروں سے بھی گندی حرکتیں ، سوروں سے بھی گندی حرکتیں۔یہ اللہ فرما رہا ہے اس پر جتنا مرضی غصہ کرنا ہے کر لو۔اس کا انتقام تو تم ہم سے ہی لو گے کہ ہم سؤر ، بندر کیسے بنادئے گئے مگر اللہ اس انتقام سے بچائے گالیکن یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے ہیں ، قرآن کریم فرما رہا ہے کہ ہم تمہیں موجودہ فسق و فجور کی حالت سے بدتر حالت کی نشان دہی نہ کریں جس کی طرف تم بڑھ رہے ہو۔لازم ہے کہ تمہاری یہ صورتیں بالآخر ظاہر ہو جائیں بلکہ یقینا ہے کہ ظاہر ہو چکی ہیں۔مَنْ لَّعَنَهُ اللهُ وہ فاسق فاجر جو رسول اللہ الیہ ایم کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور آپ صلی السلام کے دین کو بگاڑتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت۔اب بے شک لعنت کا مضمون دیکھ لوکس پر پڑ رہی ہے۔تم پر یا ہم پر تم ایک دوملکوں میں سمٹے ہوئے اپنی برتری کے فخر کر رہے ہو اور سجھتے ہو کہ تم بڑے زور والے ہولیکن کس چیز کا زور ہے۔سوائے جھوٹ ، فساد، فسق و فجور کے کوئی زور ہے ہی نہیں تمہارا۔اور احمدیت دنیا کے ایک سو ساٹھ سے زائد ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور سب جگہ وہی تعلیم ہے جو حضرت محمد رسول اللہ سیمیا کی تم کی تعلیم ہے۔تو یہ لعنت ہے خدا کی کہ خدا تعالیٰ کے پاک رسول حضرت محمد رسول اللہ سی ایم کی تعلیم ایک سو ساٹھ سے زائد ملکوں میں پھیل رہی ہو اور جو بھی اس کو اختیار کرے وہ نیک ہو رہا ہو ، وہ اپنی بدیاں چھوڑ رہا ہو اور نیکیاں اختیار کر رہا ہو۔تمہارے نزدیک یہ لعنت ہے؟ اگر یہ ہے تو ہمارے نزدیک وہی لعنت ہے جس کا اللہ ذکر فرما رہا ہے۔سارے ملک میں فساد برپا ہو ، قیامت آئی ہو، نہ بچوں کی عزت محفوظ ، نہ عورتوں کی عزت محفوظ ، ڈا کے عام ہوں، پولیس ڈاکوں میں مددگار ہو اور کسی جگہ کہیں امن کا نام ونشان نہ ہو ، یہ لعنت نہیں ہے؟ اگر یہ فضل اللہ ہے تو تمہیں یہ فضل مبارک ہو۔