خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 260

خطبات طاہر جلد 17 260 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے۔( تعلی نہیں ہے میں اس لئے دعوی کر رہا ہوں کہ ) میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے ( جو اللہ کا ہاتھ ہے ) جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔“ خدا کی تائید کا ہاتھ اتنا واضح ، اس قدر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے سامنے دکھائی دے رہا ہے مگر دنیا اسے نہیں دیکھتی۔پس ایک دور بین نظر تھی جس نے دور کی باتیں بتا دیں۔یہ ایک خورد بینی نظر ہے جس میں وہ کچھ دیکھ رہے ہیں جسے دنیا نہیں دیکھ سکتی کیونکہ ان کو روحانی خورد بین عطا نہیں ہوئی۔” میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی 66 بخشتی ہے۔“ یہ کلام اتنا سچا ، حیرت انگیز طور پر آپ کی تحریرات اور خطابات پر صادق آنے والا ہے کہ اگر کوئی شریف النفس تعصبات سے پاک ہو کر اس کا مطالعہ کرے تو ناممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کر سکے۔”میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔لفظوں اور حرفوں کو زندگی اللہ کے کلام کے سوا ملتی ہی نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام نثر میں ہو یا نظم میں ہو جب پڑھتے ہیں تو اس میں ایک ایسی زندگی کی لہر پاتے ہیں جو کبھی مر نہیں سکتی۔ہمیشہ ہمیش کے لئے ، ایک سوسال تو ہو گئے ہیں ہمیں دیکھتے ہوئے ہر دفعہ جب پڑھتے ہیں تو اس زندگی کو از سر نو اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں، ابھرتا ہوا د یکھتے ہیں۔فرمایا: اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔“ اس سب کے نتیجہ میں کوئی تکبر نہیں۔فرمایا آسمان پر جوش ہوا جس نے ایک پتیلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔اب دیکھیں اس میں خدا کا بولنا کیسا ثابت ہے۔یہ فقرے ایک غیر روحانی انسان کی زبان سے جاری ہو ہی نہیں سکتے۔