خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد 17 250 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء ساری عبادت ہی ضائع جائے گی اس کا کوڑی کا بھی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ایسے خیال کے لئے گڑھا در پیش ہے۔“ 66 یعنی اس نے غرق ہونا ہی ہونا ہے جو یہ خیال لے کے آگے بڑھتا ہے کہ میں وہی مانوں گا جس کو میں اپنے فائدہ میں سمجھوں گا اور وہ دنیا کی خوشحالی ہوگی تو فرمایا ایسے شخص کو چھوڑا نہیں جائے گا چلتے چلتے ایک دم دھڑام سے ایک گڑھے میں جا پڑے گا اور وہی ابتلا کا گڑھا ہوا کرتا ہے۔ کسی کے لئے آج در پیش ہوا کسی کے لئے کل ہوگا ۔ غرض یہ کہ تمام نظام جماعت پر نظر ڈال کر آپ دیکھ لیں ایسے شخص کسی نہ کسی جگہ گڑھے میں غرق ہو جاتے ہیں پھر وہ کاٹے جاتے ہیں اور وہی گڑھا جہنم کا گڑھا بنتا ہے۔ بلکہ تم اس لئے اس کی پرستش کرو کہ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔“ جو خالق ہے اس نے تمہیں بنایا اس طرز پر ہے کہ پرستش اس بنانے والے کا حق بن جاتا ہے۔ ہر چیز جو انسان بناتا ہے اس پر وہ حق رکھتا ہے۔ ایک کمپیوٹر بنانے والا کمپیوٹر پر ایک حق رکھتا ہے اور اگر وہ ٹھیک بنائے تو لاز ما حکم مانے گا اس کا۔ ایک ہوائی جہاز بنانے والا ، ایک بہت عظیم الشان پل بنانے والا، ایک مینار بنانے والا جب بھی بناتا ہے تو اس عمارت یا اس مشین یا اس جہاز وغیرہ کی ایک ایک گل اس کے تابع فرمان ہوتی ہے۔ جہاں اطاعت سے منہ موڑے گی وہاں اپنی ہلاکت کے سامان کرے گی۔ بعض دفعہ بہت بڑے بڑے خطرناک حادثے ہوتے ہیں اور خوب چھان بین کے بعد پتا چلتا ہے کہ ایک چھوٹا سا پرزہ اپنی جگہ سے ہل گیا تھا۔ تو دیکھیں پانچ سواحکامات کی اہمیت کتنی ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ہر خالق اپنے مخلوق پر حق رکھتا ہے اور اس حق کی خاطر اس کی پرستش کرو کیونکہ اگر حق سے روگردانی ہوئی تو ہو سکتا ہے چھوٹی سے چھوٹی روگردانی کے نتیجہ میں بھی تم ایک ہولناک حادثے کا شکار ہو جاؤ اور اس مضمون پر باریک نظر نہ رکھنے کے نتیجہ میں بہت بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا گیا ہے جن کی ساری عمر بظاہر نیکی کی کمائی میں خرچ ہو گئی آخر بدانجام کو پہنچے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو راہ کی ہر چیز دکھا دی ۔ ایک ایک قدم ، ایک ایک ٹھوکر کی نشاندہی فرمادی ہے ۔ ہر چیز پر اتنی روشنی ڈالی ہے کہ اس کے بعدا اگر ہم اس سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو بڑی بد قسمتی ہو گی ۔ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔ چاہئے (کہ) پرستش ہی تمہاری زندگی ہو جاوے اور تمہاری نیکیوں کی فقط یہی غرض ہو کہ وہ محبوب حقیقی اور محسن حقیقی راضی ہو جاوے کیونکہ وو