خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد 17 249 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء اور سرکش جہنم میں گرایا جائے گا۔“ اصل چیز سرکشی ہے۔دعا کے ذریعہ مدد مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی سرکشی سے نجات بخشے۔جب انسان سر خدا کے سامنے اٹھاتا ہے یا کسی نیک کام کے مقابل پر کوئی باغیانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے سرکشی کہتے ہیں اور یہ روز مرہ کی باتیں ہیں اس کو زیادہ تفصیل میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ، آپ سب جانتے ہیں کہ جب تک مرضی کے مطابق باتیں ہوتی رہیں، انسان مسکینی کی حالت میں دکھائی دیتا ہے جہاں مرضی کے خلاف حکم ہوا وہیں سر اٹھا۔ہم نہیں جانتے ایسے نظام کو، ہم نہیں جانتے کس کا حکم ہے۔کون ہم پر حکومت کر سکتا ہے۔ہم کریں گے اپنے اوپر حکومت حالانکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کے پانچ سو احکامات میں سے ہی ایک حکم تھا۔اب اس میں کہنے والے کی ملکیت نہیں بلکہ جس نے یعنی خدا تعالیٰ نے اسے فرمایا یا خدا تعالیٰ کے حکم کی خاطر وہ آگے اس نے دوسرے کو بظاہر حکم دیا ہے یا منت سماجت کی ہے یا پھر درخواست کی ہے جو کچھ بھی کہہ لیں اس کا انکار کرنے والا اس شخص کا انکار نہیں کرتا بلکہ اس اللہ کا انکار کرتا ہے جو مالک ہے اور دیکھنا صرف یہ چاہئے کہ یہ حکم اپنی ذات میں ان پانچ سو میں داخل ہے کہ نہیں ہے۔بڑی آسان پہچان ہے، ہر فطرت جانتی ہے، ہر انسان کی فطرت جانتی ہے کہ یہ احکامات پانچ سو احکامات میں داخل ہیں کہ نہیں کیونکہ خدا کی طرف سے جو بھی حکم آئے گا وہ اچھا ہوگا اپنے فائدہ میں ہوگا۔تو عجیب احمق لوگ ہیں کہ اپنے فائدہ کی بات جب مرضی کے خلاف پاتے ہیں اور شر میں فائدہ دیکھتے ہیں، خیر میں نہیں تو سر اُٹھا لیتے ہیں۔یہ ان کے لئے حکم ہے کہ یا درکھو شریر ہلاک کیا جائے گا۔اپنے شہر پر نظر رکھنا، اگر شر ہے تو لازماً تمہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دے گا۔فرمایا: دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو۔“ 6 یہی بات ہے جو میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ دُنیا کی خوشحالی جس حکم سے تعلق رکھتی ہو اگر صرف اسی کو مانو گے اور بسا اوقات لوگ ایسا ہی حکم مانتے ہیں جو ان کی دنیا کی خوشحالی کے لئے مفید ہو، دوسرے حکموں کو رڈ کر دیتے ہیں۔تو فرمایا ”دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو۔“ اب ایک نمازی بظا ہر نمازیں پڑھ رہا ہے جیسا کہ میں نے کہا تھا نماز کے اندر ساری نیکیاں آجاتی ہیں مگر اگر عبادت کا منشا یہ ہو کہ ہم ہی حاصل کرتے رہیں اللہ سے اور دُنیا کی خوشحالیاں نصیب ہوں تو