خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد 17 248 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء ہے، کچھ بیل جو قوی ہیں بڑی قوت کے ساتھ تیز دوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آدھا جو اُٹھاؤ۔آدھے جو ا کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔پس اپنی گردنیں مسکینی کے ساتھ آگے کر دو اور سارا بار شریعت اٹھانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دو پھر جو کمزوریاں ہیں ان پر اللہ نظر فرمائے گا اور جس کمزوری سے صرف نظر فرمانا چاہے یا بخشش فرمانا چاہے وہ مَنْ يشا جس کی کمزوری چاہے دور فرمائے گا یا اس سے رحمت کا سلوک فرمائے گا۔دین العجائز اختیار کرو۔دین العجائز کیا ہوتا ہے؟ عجائز بڑی بوڑھیوں کو کہتے ہیں ایسی بڑی بوڑھیاں جو ہمارے معاشرہ میں اس طرح ملتی ہیں کہ وہ سادہ دل ہوتی ہیں اور ان کے اندر کوئی شر نہیں ہوتا جو کام کہا جائے وہ سو بشیر اللہ کہہ کے اس پہ چل پڑتی ہیں۔ایسی بڑی بوڑھیوں کا زمانہ میرا خیال ہے بہت پہلے گزر چکا ہے اب کم کم دکھائی دیتی ہیں۔آج کل تو جتنی بوڑھیاں ہیں اتنی شریر اور وہ فساد کا سوچتی رہتی ہیں، مگر پھر بھی ملتی ہیں غریبوں میں ملتی ہیں ، سادہ لوح لوگوں میں ملتی ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام آپ کو ان کی مثال دکھا رہے ہیں کہ اپنے نفس کے لئے بڑی بوڑھیوں کو جن کو عجائز کہا جاتا ہے ان کا دین اختیار کرو۔ان کا دین سیدھا سادا یہی ہے کوئی بات کہیں ان سے بی بی مائی ! یہ کام کرواچھی چیز ہے، بہت اچھا جی میں اب یہی کروں گی۔سیدھا اعتبار کرتی ہیں۔اب لوگوں کا اعتبار جو کرتی ہیں وہ دھوکے میں بھی آسکتی ہیں لوگ دھو کے باز ہیں مگر اللہ تو دھو کے باز نہیں۔جب اللہ کہے کہ یہ کام کرو تو عجائز سے ان کا یہ سلیقہ سیکھو کہ وہ اپنا سر تسلیم خم کر دیتی ہیں بڑی سادگی کے ساتھ ، بڑی پاکیزگی کے ساتھ۔ان کے ساتھ تو شرارت ہوسکتی ہے مگر تمہارے ساتھ شرارت نہیں ہو سکتی کیونکہ حکم دینے والا اللہ ہے جو رب العالمین ہے، جو تمام ہدایت کا منبع ہے۔پس اس پہلو سے فرمایا کہ دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ مسکینی کی حالت میں ” کہ شریر ہلاک ہوگا۔اب لمبے فقرہ کو چھوٹا کر دیا ہے۔یاد رکھنا مسکینی میں بھی کوئی شرارت نہ ہو ، شریر ہلاک ہوگا۔تمہاری مسکینیاں لوگوں کے سامنے تو ہوسکتی ہیں یعنی جھوٹی مسکینیاں لیکن اللہ کے سامنے نہیں ہو سکتیں اس لئے تمہاری مسکینی میں بھی اگر خدا شر کا پہلو دیکھے گا تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔