خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد 17 14 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء جو مجموعی وصولی کے لحاظ سے جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر کی پہلی دس جماعتیں ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ امریکہ امسال بھی اوّل رہا اور امریکہ کے بعد پاکستان نمبر دو ہے اور یہ پاکستان کو بڑا اعزاز ہے۔انتہائی مخالفانہ حالات کے باوجود اس چندہ میں انہوں نے ایک ذرہ بھی کمی نہیں کی۔جرمنی کی تیسری پوزیشن جو پہلے نمبر ایک اور پھر دو اور پھر اب تین ہوا ہے اسی طرح مستحکم ہے اور ان کی مجبوری ہے۔اب آپ لوگ زبر دستی وقف جدید کا چندہ بڑھانے کی خاطر اپنے باقی چندوں کو کم نہ کریں وہ نظام بگڑ جائے گا۔اللہ نے آپ کو تیسری پوزیشن عطا فرمائی ہے بہت بڑی چیز ہے۔اس دوڑ میں تیسرا گھوڑا ہونا بھی بڑی بات ہے کیونکہ عام طور پر اوّل ، دوم، سوم کا اعلان کیا جاتا ہے۔چوتھے نمبر پر برطانیہ ہے پانچویں پر کینیڈا، چھٹے پرانڈیا۔انڈیا کی یہ خاص خوبی ہے کہ وقف جدید کے چندہ میں وہ پہلے سے بہت بڑھتے ہیں اور اب بڑے بڑے ملکوں کا مقابلہ کرنے لگ گئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ ساتویں نمبر پر ہے۔یہ اب ہندوستان کے بعد چلا گیا ہے۔انڈونیشیا آٹھویں نمبر پر ہے۔ناروے نویں نمبر پر اور ماریشس دسویں نمبر پر ہے۔فی کس قربانی کے لحاظ سے جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر کی پہلی پانچ جماعتیں یعنی ہر چندہ دہندہ جس نے حصہ لیا ہے اس کی انفرادی قربانی کو اگر شامل کیا جائے تو دُنیا میں کون سی جماعتیں ہیں جن میں ہر چندہ دہندہ اتنا چندہ ادا کر رہا ہے کہ باقی دنیا کی جماعتوں سے آگے بڑھ جائے۔اس پہلو سے بھی اللہ کے فضل سے امریکہ سب سے اوپر ہے۔فی چندہ دہندہ سب چھوٹے بڑوں کو ملانے کے باوجود، باوجود اس کے کہ انہوں نے چندہ دہندگان کی تعداد میں بہت اضافہ کیا ہے اور اس اضافہ کے پیش نظر ان کو یہ خطرہ تھا کہ مجموعی تعداد گر نہ جائے مگر امریکہ کے ہر چندہ دہندہ کو 105 پاؤنڈ فی کس دینے کی توفیق ملی ہے۔نمبر دوسوئٹزر لینڈ ہے ان کو 63 پاؤنڈ فی کس دینے کی توفیق ملی ہے۔گویا امریکہ اللہ کے فضل سے اب اتنا نمایاں آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس کے لئے دعائیں کریں لیکن آپ میں طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکیں کیونکہ امریکہ کا نظام ماشاء اللہ دن بدن مستحکم ہوتا چلا جارہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ایسا امیر عطا فرمایا ہے جو مالیات کا بہت بڑا ماہر ہے لیکن مالیات سے بڑھ کر انہوں نے اپنی سوچیں اپنے بزرگ باپ سے ورثہ میں پائی ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب