خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد 17 247 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء ضرورت نہیں۔مغفرت کا اور مطلب ہے اور ضرورت کا اور مطلب ہے۔اب ایک شخص کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔اس کو چھوڑ دیں، اس کے نتیجہ میں وہ عام کھانا کھا رہا ہے مگر اس کی ایک ٹانگ سوکھ گئی ہے جس کا مطلب ہے ٹانگ کے لئے جو غذا مقرر تھی وہ اسے نہیں پہنچ رہی۔تو جس کی ٹانگ بیچارہ کی سوکھ جائے اب اس کو سوٹیاں تو نہیں مارتے اگر اس کا قصور نہ ہو مگر یہ نہیں کہہ سکتے اس کا نقصان کوئی نہیں۔جو غذ انہیں پہنچے گی اس کا نقصان ضرور ہوگا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں فرما رہے ہیں لائق مواخذہ ہوتا ہے۔مواخذہ کس نتیجہ پر پہنچے گا یہ اللہ جانتا ہے لیکن اس کے مواخذہ کا یہ مطلب نہیں کہ اگر بخش دیا جائے تو ٹانگ کی کمزوری دور ہو جائے گی۔اگر بخش دیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ وہ نہیں دوڑ سکا لنگڑا بے چارہ، اس لئے دوڑ میں شامل ہوا مگر تھوڑا چلا۔تو اللہ تعالیٰ اس سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا اور اس کا امتحان تھوڑے عرصہ میں مکمل ہو جائے گا جیسے بچوں کی ریس Race ہوا کرتی ہے بڑوں کے ساتھ تو بچوں کے لئے پہلے منزل لگا دیا کرتے ہیں بڑوں کے لئے آگے لگا دیتے ہیں۔Handicap جو ہیں ان کے نشان الگ الگ لگتے ہیں۔تو یہ مضمون ہے کہ خدا تعالیٰ نے Handicap کا بھی خیال رکھا ہوا ہے مگر ان Handicap کا جو ذمہ دار نہیں ہیں جنہوں نے بالا رادہ شرارت کی راہ سے نعمتوں کا انکار نہیں کیا۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ اور جنہوں نے جان بوجھ کر نعمت کا انکار کیا اور اس کے نتیجہ میں ان کے اعضاء سوکھے ہیں تو اس کی ساری ذمہ داری ان پر پڑے گی اور پھر وہ عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ کہ شریر ہلاک ہو گا۔“ مسکینی کے ساتھ قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے قرآن کا بار تمہاری گردن پر آنا چاہئے جیسے بیلوں پر جو ا ڈالا جاتا ہے تو جس چیز کو وہ کھینچتے ہیں تمام تر بوجھ انہی پر پڑتا ہے تو مسکینی کے ساتھ جیسے بیل اپنی گردن آگے رکھ دیتا ہے اور اس پر جو ا ڈال دیا جاتا ہے۔پھر بیل بیل کی الگ الگ حالت ہوتی ہے کچھ بیچارے کمزور ہوتے ہیں وہ تھوڑا تھوڑا چلتے ہیں لیکن سارا بوجھ ضرور اٹھاتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بوجھ کوئی اور اٹھا لے۔اپنی گاڑی خود ہی کھینچنی پڑتی