خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد 17 246 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء کے لئے ایک روحانی دعوت ہے جس کو کھائے بغیر یہ حالتیں ترقی نہیں کر سکتیں بلکہ زندہ نہیں رہ سکتیں، نور کی بجائے اندھیرے میں داخل ہو جائیں گے۔پس احکام الہی کی تفصیل سن کر یا اس کی تعداد کا ذکر سن کر جو دل میں ہول اٹھتا ہے کہ ہم کیسے کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اس میں لذت پارہے ہیں۔کہتے ہیں بڑاز بردست دستر خوان بچھایا گیا ہے اور جس پلیٹ سے کھائیں گے ہمارے اعضاء ہماری صلاحیتوں کے کسی نہ کسی حصہ کو وہ کھانا فائدہ پہنچائے گا۔اس لحاظ سے فرماتے ہیں: دعوت تمہاری کی ہے۔سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو اور جس قدر کھانے تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔“ اب کھانے کی خواہش تو ہر ایک دل میں ہوتی ہے مگر اعمال کو شریعت کے مطابق بجالانے سے ڈر لگتا ہے لیکن جیسے ہر کھانا کوئی نہ کوئی تاثیر کسی نہ کسی حصہ جسم پر رکھتا ہے۔بعض کھانوں کی تاثیر آنکھ پر پڑتی ہے، بعض کی ناک پر، بعض کی اور صلاحیتوں پر۔اس لئے کسی ایک کھانے سے ساری انسانی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔اس لئے اگر یہ خیال کر لو کہ ہم نماز پڑھ رہے ہیں بہت کافی ہے لیکن نماز کے اندر بھی تو بے شمار مضامین ہیں، یا ہم سچ بولتے ہیں تو بہت کافی ہے۔اتنی تفصیل سے یہ کھانے تیار کئے گئے ہیں اور اتنی حکمت سے کہ ہر ایک کی ایک تاثیر ہے اور ہر تا شیرکسی نہ کسی حصہ بدن یا حصہ روح پر پڑ رہی ہے۔فرماتے ہیں: سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو بھی ٹالتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا۔“ يُحَاسِبُكُم بِهِ اللہ کا یہ مضمون ہے کہ وہ مالک تھا جس نے ساری صلاحیتیں عطا کیں اس نے ہر ایک کا حساب لینا ہے۔فرمایا: ”عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔اب مواخذہ کے لائق تو ہوگا مگر مواخذہ کیا جائے گا کہ نہیں کیا جائے گا۔اس کا جواب اللہ بیان فرما چکا ہے۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ۔پس اگر کوئی انسان بے باکی اور جرات سے کسی حکم کو ٹالتا ہے تو بعید نہیں کہ اللہ اس کا مواخذہ فرمائے اور اگر کمزوری کی وجہ سے کسی حکم کو ٹالتا ہے تو اس کا نقصان تو اس حصّہ بدن کو ضرور پہنچے گا یا اس حصہ روح کو ضرور پہنچے گا جس کی تقویت کے لئے غذا مقرر کی گئی تھی یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جو لا ز ما خود بخود نکلے گا۔اس لئے یہ خیال دل میں نہ لاؤ کہ مغفرت کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ہمیں