خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد 17 245 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء مگر چونکہ فطرت کے تقاضے تبدیل کر دئے جاتے ہیں ماں باپ کی طرف سے، معاشرہ کی طرف سے 66 66 فَأَبَواهُ يُبَوِدَانِه “ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ما قيل فى اولاد المشركين ،حدیث نمبر :1385) کا مضمون ہے، اس لئے کوئی کہہ سکتا ہے فطرت تو ایک ہی ہے۔مگر فطرت کو بیرونی اثرات تبدیل کرتے رہتے ہیں اس لئے ہم بعض لوگوں کے متعلق کہتے ہیں بڑا بدفطرت ہے حالانکہ بدفطرت تو کوئی بھی نہیں سب اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے اوپر بنائی گئی ہے مگر اگر اس فطرت کو بد بنا دیا جائے تو اس کی عادات یوں لگتا ہے جیسے اس کی فطرت کی آواز ہے۔جب کہتے ہیں بڑا بدذات ہے تو اس سے عام ذات مراد نہیں ہوتی یہی فطرت کے تقاضے مراد ہیں کہ اس نے فطرت کو اتنا گندہ کر لیا ہے کہ کمینی ذات بن گئی ہے اس کی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرف بھی نظر رکھ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ہر مرتبہ فطرت۔“ اور (ہر ) مرتبہ سلوک سلوک اس رستہ کو کہتے ہیں جو خدا کی راہ میں اختیار کیا جاتا ہے اور ہر ایک سلوک اگر چہ خدا ہی کی طرف لے کے جاتا ہے مگر چلنے والے کا فرق ہے۔چلنے والے کے قدم خدا کی راہ میں بعینہ یکساں نہیں اٹھتے اس کے بھی مرتبے الگ الگ ہیں۔اب دیکھیں صراط مستقیم میں سب سے آگے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ہے کہ تم چل رہے ہیں۔آپ صلی لا نہ ہم کے پیچھے اتنا لمبا جلوس ہے کہ ارب با ارب انسان پیچھے چل رہے ہیں اور ہر چلنے والا اگر چہ پیروی رسول اللہ صلینی پیہم کی کر رہا ہے مگر اس کا مرتبہ سلوک الگ ہے اور اس کے درمیان لامتناہی مراتب پھیلے ہوئے ہیں۔فرمایا سلوک سے یہ نہ سمجھو کہ تم رسول اللہ صلی ایلم کی پیروی کر رہے ہو اگر غور کرو گے تو اس پیروی میں بے انتہا گنجائش ملے گی اور جتنی زیادہ گنجائش پاؤ گے اتنا ہی تمہارا مرتبہ اور تمہارا درجہ بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔اور پھر ”مرتبہ انفراد اور اجتماع یعنی انفرادی طور پر کچھ تقاضے ہیں، کچھ قومی طور پر تقاضے ہیں۔اب جماعت احمد یہ اس کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ساری دُنیا میں جماعت ایک مٹھی کی طرح اکٹھی ہو چکی ہے لیکن اس اجتماعیت کے کچھ تقاضے ہیں جو ہمیں پورے کرنے ہیں اور کچھ فردا فردا ہر ایک کے اپنے تقاضے ہیں۔تو خلاصہ آخر پہ یہی نکلا کہ مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری کی ہے۔اب جس کو ہم پابندی سمجھ رہے تھے کہ یہ نہ کرو، یہ کرو۔وہ دراصل ان تمام حالتوں