خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد 17 244 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء - تو ہر عمر میں انسان کے محاسبے کے تقاضے بدلتے جاتے ہیں اور اس کے نفس کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں ۔ تولمحہ لمحہ اگر عمر کا حساب لگاؤ تو لازم ہے کہ ہر عمر کے لئے احکام الگ الگ ہونے چاہئیں اور یہی قرآن کریم میں ملتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے وقت ماں باپ کو کیا کرنا چاہئے ، بچے کی پیدائش سے پہلے ماں باپ کو کیا کرنا چاہئے ۔ جب وہ ان کے ہاں پلتا ہے تو کیا تقاضے ہیں جو انہوں نے پورے کرنے ہیں۔ پھر جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو خود اس کے اپنے تقاضوں پر نگاہ رکھنی چاہئے کہ میرے لئے خدا تعالیٰ نے کیا سامان کیا ہے۔ میں نوجوان ہوں ، ایسی عمر میں داخل ہوا ہوں جس میں کھیلنا، کو دنا یہ ساری چیزیں میرے جذبات سے تعلق رکھتی ہیں کس حد تک مجھے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہئے ۔ اگر احکام نہیں ہوں گے تو ڈھالے گا کیسے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں قرآنی شریعت میں بچپن سے لے کر لڑکپن کے زمانہ کے احکامات بھی ہیں اور جب شعور میں انسان داخل ہو رہا ہوتا ہے اس کے متعلق بھی احکامات ہیں ۔ آپ کو قرآن کریم پڑھتے ہوئے وہ دکھائی دیں یا نہ دیں اگر آپ غور سے پڑھیں گے تو آپ کو لا زما دکھائی دیں گے۔ ہر عمر کے متعلق قرآن کریم کے احکامات ہیں پھر وہ پوری جوانی تک پہنچتا ہے اس کے متعلق تمام احکامات موجود ہیں۔ تو نظر کے تقاضے اگر چہ پہلے بیان ہو چکے ہیں مگر عمر کے تعلق میں نظر کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں ۔ بچے کی نظر کے تقاضے اور ہیں جو ان کی نظر کے تقاضے اور ہیں ، بڑھے کی نظر کے تقاضے اور ہیں ۔ تو جو پانچ سو احکامات ہیں انہوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے۔ پھر اور ہر ایک مرتبہ فہم “ اب ہر شخص کا دماغ الگ الگ ہے اور وہ اپنے دماغ کی حالت کے مطابق محاسبے کے لائق ٹھہرایا جائے گا۔ چنانچہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کے آگے یہی مضمون بیان ہوا ہے، کسی نفس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : 287) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس چیز کو بھی نہیں چھوڑا ۔ ہر یک مرتبہ فہم “ ایک بیچارہ پاگل سا آدمی ہے مگر کچھ نہ کچھ فہم رکھتا ہے۔ جتنا فہم رکھے گا اس کا محاسبہ اسی کے مطابق ہوگا اس کے فہم سے بڑھ کر نہیں ہوگا اور اس کے فہم کے مطابق بھی قرآن کے احکامات ہیں ۔ جتنی اس کو ہوش ہے اس حد تک وہ جوابدہ ہے اس سے زیادہ نہیں۔ اور ( ہر ) مرتبہ فطرت ۔ اب فطرت تو ایک ہی ہے تمام بنی نوع انسان کی ایک ہی فطرت ہے