خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 226

خطبات طاہر جلد 17 226 اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے خطبہ جمعہ 3 اپریل 1998ء تتمہ حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ: 595) اس حقیقت کو کوئی بدل کے دکھائے تو پھر اس کی باتوں پر غور ہوسکتا ہے کہ کیا کہنا چاہتا ہے۔یہ وہ تازہ بہ تازہ ، نو بہ نو نور ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جس بندے پر نازل ہوتا ہے اس کو یقین سے بھر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ایک مجلس میں ایک آنے والے نے سوال شروع کئے جو اپنے آپ کو بڑا فلسفی سمجھتا تھا۔اس نے کہا آپ نے سلوک کی جتنی منازل طے کی ہیں آخر ایک مقام پہ سمجھتے ہیں کہ میں پہنچ گیا ہوں تو ذرا بتا ئیں تو سہی کہ ان ساری منازل کے دوران آپ نے کیا کیا دیکھا، کیا کیا رنگ پائے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسکرا کر فرمایا کہ اگر کلکتہ سے کوئی مسافر گاڑی پر بیٹھ کر پشاور پہنچے اور پشاور اتر جائے اس سے اگر کوئی پوچھے کہ سارے رستہ میں آپ نے ہر لمحہ بدلتے ہوئے مناظر کیا کیا دیکھے تو بتا سکے گا آپ کو؟ وہ مناظر اس وقت محسوس ہورہے ہوتے ہیں لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا۔تو فرمایا تم کیسی بظاہر عالمانہ باتیں کر رہے ہو اس بات میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے میں پہنچ گیا ہوں۔تو اس پر اس نے اپنی طرف سے پکڑا کہ پہنچ گئے ہیں تو بتائیں کیا دیکھا۔آپ نے فرمایا میرا دل اس قدر یقین سے بھر گیا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس یقین کو کمزور نہیں کر سکتی۔اس کو آزما کے دیکھ لو۔جب میں خدا کی طرف سے بات کہتا ہوں تو ناممکن ہے کہ وہ ٹل جائے۔پس خدا کی طرف بلانے میں میرا دل کامل یقین سے بھر گیا ہے۔(الحکم جلد 37 نمبر 18، 19 صفحہ:10 ،مؤرخہ 28،21مئی 1934ء) سیہ وہ بات ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دُنیا کا کوئی انسان ٹال نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس نور کی ہر ایک نجات کے خواہش مند کو ضرورت ہے۔“