خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد 17 وو 225 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔“ کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ: 65) ایک طرف آگ ہے جو بھڑکاتی چلی جاتی ہے، بھڑکتی چلی جاتی ہے اور ساتھ آگ والوں کو بھی خاکستر کرتی چلی جاتی ہے۔دوسری طرف نار کے مقابل پر نور ہے۔تو جہاں آپ نے آگ بیان فرما یا وہاں نور کا بیان بھی آپ ہی کے الفاظ میں سن لیجئے۔حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔دلوں کو سکینت اور اطمینان تو بعض دفعہ جھوٹے تو ہمات کے نتیجہ میں بھی وقتی طور پر ہو سکتا ہے اگر چہ بہت زیادہ اندرونے پر غور کرنے والوں کو پتا لگ سکتا ہے کہ یہ سکینت محض جعلی ہے، اس میں کوئی بھی سکینت والی بات نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو فرمارہے ہیں، آسمان سے اتر تا اور سکینت اور اطمینان بخشتا ہے، وہ کس طرح ہوتا ہے؟ نشانوں کے رنگ میں اترتا ہے۔اب نشان وہ ہیں جو اپنی سچائی کی خود علامت ہوتے ہیں ، اب سورج سے نو را ترتا ہے تو وہ تمام صفات نور میں جو زندگی بخش ہیں وہ ساری کی ساری کلیۃ سورج میں پائی جاتی ہیں۔اگر ذرا کسی میں عقل ہو تو وہ اس حیواناتی دور پر نظر ڈال کر دیکھے کہ جب سے زندگی کا آغاز ہوا ہے زندگی کی تمام تر ضرورتیں سورج کے نور سے لی گئی ہیں۔اس نور کو نکال لوتو مکمل اندھیرا چھا جائے گا زندگی کا پہلا قدم ہی نہیں اُٹھ سکتا۔پس یہ نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اتر ناجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اس کی ظاہری مثال سورج کا نور ہے۔اب جاہل جس کو علم ہی کچھ نہیں اس کو سمجھ ہی نہیں آسکتی کہ یہ ایک قانون قدرت کے مطابق ہو رہا ہے۔اتفاقا نہیں ہو رہا۔مگر جو نشان خدا کے پیارے بندوں پر ظاہر ہوتے ہیں وہ تو تازہ بہ تازہ ٹو بہ کو دکھائی دیتے ہیں۔اب اہل علم ہونا اور ماضی میں ڈوب کر Biotic Units کا روشنی سے زندگی پانا یہ ایک بہت گہر ا مضمون ہے جو ہر کس و ناکس نہیں سمجھ سکتا۔مگر یہ مضمون تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ آسمان سے جن لوگوں پر نو را ترتا ہے وہ اپنے ساتھ نشان رکھتا ہے۔اور وہ نشان ایسے نہیں ہیں جو صرف دل میں محسوس ہوں۔وہ دیکھنے والا بھی دیکھتا ہے اور دیکھ سکتا ہے اور خدا کے بندوں کی باتوں کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کیونکہ وہ باتیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: