خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 209
خطبات طاہر جلد 17 209 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء طے ہو جائے کہ ہم نے یہ کرنا ہے پھر عزم کے ساتھ کرنا ہے۔ عزم کا مطلب ہے ایسار یزولیوشن ، ایسا قوی ارادہ کہ جس کو ٹالا نہ جا سکے۔ اٹھنا، بیٹھنا اور برخواست ہونا ہماری مجلس شوری کا کام نہیں۔ ایسی مجالس شوری دیکھنی ہیں تو باہر دُنیا میں نکل کے دیکھ لیں۔ ہماری مجالس شوری کا کام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الہ السلام کی پیروی میں آپ صلی لا الہ سلم کے جیسا پختہ عزم اختیار کرنے کی کوشش کریں ۔ وہ عزم ایسا تھا کہ ناممکن تھا کہ وہ ٹل جائے اور وجہ اس کی بیان ہو گئی ۔ فَتَوَكَّلْ عَلَی اللہ جس عزم میں کسی عظیم اور طاقتور ہستی پہ تو کل ہو جو اس کی پشت پناہی کر رہی ہو تو وہ عزم متزلزل ہو ہی نہیں سکتا۔ بڑے بڑے عزم کرنے والے ہم نے دیکھے ہیں سیاست کی دنیا میں ان کی بے شمار مثالیں ہیں کہ فیصلے کئے کہ یہ ضرور ہو گا ، یہ کر کے رہیں گے، ہو نہیں سکتا کہ نہ ہوا اور دوسرے دن سیاست کی کایا پلٹ گئی اور ان کا کوئی مدد گار اور کوئی معین نہیں رہا۔ ان عزائم سے ان کو لازماً پیچھے ہٹنا پڑا یا خود اپنے ہاتھوں ان عزائم کو توڑنا پڑا ۔ آنحضرت صلی السلام کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں کہ آپ صلی السلام نے عزم کر لیا ہو اور پھر اس عزم کو ٹال دیا ہو۔ وجہ یہ ہے جو یہاں اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ۔ آپ صلی سلیم کا عزم کسی انا کے نتیجہ میں نہیں تھا ۔ آپ صلی لا الہام کا عزم یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ محمد رسول اللہ صل للہ العلیم بے حد مضبوط ارادہ کے ہیں۔ آپ صلی لا الہ سلیم کا عزم یہ ظاہر کرتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی الا السلام کا اللہ پر ایمان کامل ہے اور جو بھی عزم کرتے ہیں وہ اس کی رضا کی خاطر کرتے ہیں اور جس کی رضا کی خاطر کرتے ہیں وہ بڑا طاقتور ہے، بہت قادر ہے، ہر چیز پر قادر ہے اس پ لئے اس یقین کے بعد آپ کے پیچھے ہٹنے یا عزم کے متزلزل ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ یہ عزم ہم نے بھی کرتے ہیں تو کل علی اللہ کی شرط کے ساتھ ، اور ہمارے عزائم میں جتنا تقویٰ ہوگا اتنا ہی تو کل علی اللہ کا عنصر بڑھے گا۔ اگر عزائم تقویٰ سے خالی ہوں تو تو کل علی اللہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پس جو فیصلہ کرنا ہے وہ تقویٰ کی روح کے ساتھ کرنا ہے۔ جو مشورہ دینا ہے وہ تقویٰ کی روح کے ساتھ دینا ہے۔ پھر جب اُس کو اپنا لیں گے تو تو کل کا مضمون شروع ہوگا اور پھر آپ کے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں ۔ پس اب ایک آپ عزم کر چکے ہیں کہ آپ نے پاکستان میں احمدیت کا قدم لازما آگے بڑھانا ہے۔ بڑے سخت مخالفانہ قوانین ہیں، بڑے مظالم ہیں جو آپ کی راہ روکے کھڑے ہیں اور آپ کے گھروں میں داخل ہو کر آپ پر تعدّی کرتے ہیں یہ وہ بات ہے جس کا عزم