خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد 17 208 خطبہ جمعہ 27 مارچ1998ء باتوں کو سمجھ کر ان میں نمونہ بنیں کیونکہ انہوں نے واپس جا کر مشورے کرنے ہیں۔یہ ایک اور پہلو ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں کہ مشورے صرف ایک سطح پر نہیں یعنی مرکز کی سطح پر نہیں بلکہ ہر سطح پر جہاں احمدیوں کو مشوروں کے لائق بنانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے وہاں سے نمائندوں کے چلنے سے پہلے بھی مشورے ہوئے تھے اور ہر ایسی جگہ جہاں سے نمائندے آئے ہیں وہاں ان نمائندوں کی واپسی پر بھی چھوٹی چھوٹی مجالس شوریٰ منعقد ہوں گی کیونکہ میری آواز تو اب دنیا میں سب لوگ سن رہے ہیں جو ڈش انٹینا کے ذریعے مجھ سے تعلق قائم کر چکے ہیں مگر مشاورت میں جو باتیں ہوئی ہیں وہ تو نہیں سن رہے اب۔اس لئے میں اب جس بات کی طرف توجہ دلا رہا ہوں وہ یہ نہیں کہ میری بات کو دوبارہ پہنچا ئیں۔میں اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ میری بات کو سمجھ کر اپنے وجود کا حصہ بنائیں اور مجلس شوری میں اس کی روشنی میں یعنی میری نصیحتوں کی روشنی میں جو بھی کارروائی ہوئی ہے اسے اپنے دل کے کوزوں میں سمیٹیں اور محفوظ کریں اور واپس جا کر اپنے اپنے گاؤں یا شہروں میں اسی طرح کی مجلس شوری بنا ئیں جیسی کہ آپ کے چلنے سے پہلے وہاں بنائی گئی تھی اور کوشش کریں کہ ہر جماعت کا فرداس واپسی کی مجلس شوریٰ میں شامل ہو۔وہاں آپ ان کو سمجھا ئیں کہ بہت سی باتیں تھیں جو مختلف جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئیں لیکن حکمت سے خالی تھیں اور اُن پر اُن حالات میں عمل درآمد ہو ہی نہیں سکتا تھا، ان مشوروں پر عمل درآمد کا جواز کوئی نہیں تھا کیونکہ وہ بہت سے ایسے مشورے ہیں جو میں دیکھ چکا ہوں، جن کے تعلق میں میں خود تفصیل سے ہدایتیں دے چکا تھا۔تو اب بار بار وہی مشورے اٹھا کر مجلس شوری میں بھیجے جائیں یہ تو کوئی معقولیت نہیں ہے، یہ تو صرف گویا نمبر بنائے جارہے ہیں کہ ہمیں بھی ایک اچھی بات آتی ہے وہ بھی آپ کریں۔تو جا کر سمجھا ئیں ان لوگوں کو کہ جو اچھی بات آپ کو آتی ہے وہ تو سالہا سال سے خلیفہ اسیح کی طرف سے ہمیں کہی جارہی ہے۔مشورہ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ یہ بھی اچھی باتیں ہیں ان پر غور کریں، ان پر عمل کرنا ہے کہ نہیں۔مشورہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ عمل نہیں ہورہا کس طرح عمل کرنا ہے یا اب پوری طرح عمل نہیں ہورہا اس پر پوری طرح کیسے عمل کیا جاسکتا ہے یہ پہلو ہے جس پر آپ کو زور کرنے کی ضرورت ہے۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اب یہ عزم کا پہلو رسول اللہ صلی یا تم سے جیسے تعلق رکھتا تھا وہ آپ سے بھی تعلق رکھتا ہے جب ایک فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچیں اور جماعتی طور پر مرکز کی منظوری کے بعد یہ