خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد 17 207 خطبہ جمعہ 27 مارچ1998ء ہے جس کا فَاعْفُ عَنْهُمْ سے تعلق ہے۔وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اب عفو کافی نہیں ہے جب تک ان کے لئے بار بار استغفار نہ کیا جائے۔اب یہ عجیب مضمون ہے کہ بظاہر تو یوں لگتا ہے جیسے کرے کوئی اور بھرے کوئی یعنی گناہ کسی اور نے سرزد کیا اور معافیاں حضرت رسول اللہ صلی ہلت مانگیں لیکن اس کے سوا آپ مسی تھا یہ کام کی رحمت کا کوئی تصور ہی نہیں۔سب دُنیا کے گناہوں کے لئے آپ مالی مالی تم نے استغفار کیا ہے۔پس عیسائیوں کے لئے اس میں ایک سبق ہے۔کوئی اور کفارہ گناہوں کا استغفار کے سوا ممکن نہیں ہے کیونکہ استغفار سے گناہ جھڑتے ہیں اور گناہوں کا بوجھ اٹھانے سے گناہ جھڑتے نہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ کرو گناہ تمہارا بوجھ میں اٹھالوں گا تو اس سے اس کے گناہ جھڑ کیسے جائیں گے۔اس کی تو حوصلہ افزائی ہوگی مزید گناہ کرنے کے لئے لیکن استغفار کے نتیجہ میں اگر وہ مقبول ہو جائے تو گناہوں کا رجحان ختم ہو جاتا ہے۔وہ مٹی کے نیچے دفنا دئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسا شخص پھر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دل کی صفائی اور نیت کی نیکی کے ساتھ قابل اعتماد ہو جائے جب یہ ہو تو پھر ان سے مشورہ کرنا ہے۔بے ایمانوں، بددیانت لوگوں اور گندے لوگوں سے مشورہ کا قرآن کریم میں کہیں بھی حکم نہیں ہے۔اس مضمون کو آپ سمجھیں کہ آپ کو مجلس شوری پر بلایا گیا ہے تو قرآن کریم کی اس تعلیم کی روشنی میں بلایا گیا ہے۔وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرُهُمْ فِي الْآمر پہلے اُن کی صفائی کرو، اُن کو پاک کرو، اُن کو اس لائق بناؤ کہ وہ مشورہ دے سکیں اور جب وہ ایسے ہو جا ئیں تو اُن کو مشورہ کے لئے بلاؤ۔جب مشورہ کے لئے بلایا جائے تو تعلقات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔لِنتَ لَهُمُ کا مضمون پیچھے نہیں رہ جاتا بلکہ آگے بڑھتا ہے کیونکہ جب بھی آپ کو کوئی شخص مشورہ کے لئے بلائے تو آپ اپنے دل میں اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ اس وقت آپ اپنی اہمیت کیا سمجھ رہے ہیں۔جب کوئی مشورہ کے لئے بلاتا ہے تو آپ اپنے دل میں ایک قسم کا اعزاز پاتے ہیں کہ میرا اعزاز کیا گیا ہے اور جس کا اعزاز ہو، اگر وہ اس طرح پاک وصاف ہو چکا ہو جیسے رسول اللہ صلی ا یہی تم نے اُن کو بنادیا تھا تو وہ پہلے سے بڑھ کر آپ کی محبت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔پس یہ مشورہ کا نظام ہے جو ہم نے ساری دُنیا میں قائم کرنا ہے اور یہی مشورے کا نظام ہے جواس وقت مجلس شوریٰ میں نمونے کے طور پر قائم ہونا چاہئے یہ نمونہ لے کے لوگ پھیلیں کیونکہ عامتہ الناس بعض دفعہ یہ باتیں سنتے تو ہیں مگر نمونہ نہیں بن سکتے۔شوریٰ کے نمائندگان کے لئے ضروری ہے کہ ان