خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد 17 206 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء پایا جا سکتا تھا۔ تو ایک تو آپ لوگ جو میری آواز سن رہے ہیں وہ یہ بات دوسروں تک بھی پہنچائیں اور اپنی حکمت عملی کو پہلے سے زیادہ مضبوط کریں لیکن اب میں آپ کو یہ نہیں کہتا کہ آپ جب واپس جائیں تو اپنے اپنے گاؤں میں یہ بات پھیلائیں کیونکہ آپ کی واپسی سے پہلے اس لمحہ ان سب گاؤں تک یہ آواز براہ راست پہنچ گئی ہے جو آپ نے مجھ سے سن کر آگے پہنچانی تھی۔ آپ کا چونکہ انتظام سے تعلق ہے اس لئے انتظامی پہلو کے لحاظ سے آپ مستعد ہو جائیں لیکن جہاں تک احمدی عوام الناس کا تعلق ہے وہ براہ راست آواز سن رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس پر عمل کر رہے ہیں اور کریں گے۔ دوسری بات جو اس تعلیم میں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نرمی کا جو پہلو رسول اللہ صلی السلام کے تعلق میں بیان ہوا ہے اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ کہ جن کے لئے تیرا دل نرم ہو گیا جن کی محبت میں تو مبتلا ہو گیا ابھی ان کی تربیت نہیں ہوئی ان سے غلطیاں ہوں گی اور جب غلطیاں ہوں گی تو اس وقت ان سے نرمی کا سلوک کرنا۔ اگر سختی سے پکڑ کی گئی تو اس کے نتیجہ میں یہ لوگ تجھ سے دور ہٹنے لگ جائیں گے ۔ یہ جو نرمی کا سلوک ہے اور قریب کرنا ہے اس مضمون پر میں پہلے تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں کہ ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آنحضور صلی ال ایل ایم خدا کی تعلیم کو نافذ کرنے کی خاطر ان لوگوں سے ناراض نہیں ہوتے تھے جو اس راہ میں روک بنا کرتے تھے یا منہ سے بنا تو اقرار کرتے تھے کہ آنحضرت صلی ایام کے غلام ہیں اور عملاً بعض دفعہ ایسی کوتا ہیاں ہو جاتی تھیں کہ وہ غلامی کے تقاضے پورے نہیں کرتے تھے۔ تاریخ اسلام بھری پڑی ہے ایسے واقعات سے یا اگر بھری پڑی نہیں تو یہ کہنا چاہئے کہ تاریخ اسلام سے قطعیت سے ایسے واقعات ثابت ہیں کہ آنحضرت مال الا الیکم کبھی انفرادی طور پر لوگوں سے ناراض ہوئے ،صحابہ سے ناراض ہوئے کبھی اجتماعی طور پر بڑے گروہوں سے ناراض ہوئے اور آپ سی ایم کی ناراضگی میں ایک عزم پایا جاتا تھا جو دل کی نرمی کے برعکس کام کرتی تھی یعنی آپ مالی ایم کی ناراضگی چونکہ اللہ کے لئے تھی، آپ صلی السلام کو نا راضگی به کو ناراضگی بنانے کی خاطر خالصہ اللہ کی مرضی پر انحصار کرنا پڑتا تھا اور یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ آپ مالی های سالم ناراض ہوں لیکن دل میں ان کے لئے درد محسوس نہ کریں۔ ناراض ہوتے تھے تو دل میں درد محسوس کرتے تھے، دل میں درد محسوس کرتے تھے تو ان کے لئے دعائیں اٹھتی تھیں۔ یہ مضمون