خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد 17 205 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء دعاؤں سے یہ بات رونما ہوئی ہے جیسا کہ میں نے دعوی کیا تھا کہ آپ صلی اینم کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں۔اب ثبوت پیش کر رہا ہوں کہ دیکھ لو یہ ہمارے ساتھ ہیں ورنہ دُنیا میں اور کوئی جماعت نہیں خواہ کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتی ہو جس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی ہو کہ چوبیس گھنٹے اس کی آواز تمام دنیا کی غلط فہمیاں دور کرنے اور اسلام کی سچائی کو ثابت کرنے میں ہر کونے تک پہنچے، دنیا کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہ ہو جو اس آواز سے محروم رہ جائے۔پس یہ آپ کو سمجھانے کی خاطر MTA کی تفصیل بیان کی ہے مگر آپ لوگوں کے لئے اس میں جہاں ایک خوشی اور شکر کا مقام ہے وہاں کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جو آپ پر عائد ہوتی ہیں۔۔MTA کو عام کرنے کے لئے جماعت احمدیہ نے بہت کوشش کی کہ جس حد تک ممکن تھا انٹیناز مہیا کئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق بھاری تعداد میں جماعتوں کو وہ انٹیناز مہیا ہیں جو MTA کا پیغام سن سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں یعنی وہ آواز جو خلیفہ کی آواز براہ راست ان کو باندھنے کے لئے مُمد ہو سکتی تھی وہ پہلے شاذ کے طور پر احمدی کانوں تک پہنچا کرتی تھی اور اب وہ روز بلا ناغہ ہرلحہ ان تک پہنچ رہی ہے۔یہ اتنا عظیم الشان احسان ہے کہ اس کا جتنا بھی شکر ادا کریں عمر بھر شکر ادا کرتے رہیں تو وہ پورا نہیں ہوسکتا لیکن اس کے ساتھ ہی مشکلات جو پیدا ہو رہی ہیں ان پر بھی غور کرنا ہو گا۔جن جگہوں میں یہ آواز پہنچ رہی ہے ان میں حکمت اور دانائی کے ساتھ اس معاملہ کو پھیلانا چاہئے۔بعض لوگ کم منہمی کے نتیجہ میں یا تبلیغ کے جوش میں زیادتی کی وجہ سے بغیر جائزہ لئے کہ کوئی شخص شریف ہے یا شریر ہے، بچا ہے یا جھوٹا ہے،سیدھا صاف ہے یا منافقت رکھتا ہے وہ اپنے شوق میں ان کو MTA پر دعوت دینے لگ جاتے ہیں اور بہت دفعہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ شخص ارادۂ کھوج لگانے کی خاطر آتا ہے اور جا کر تھانوں میں رپورٹ کر دیتا ہے کہ یہ MTA کے ذریعہ احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں ان کو پکڑو اور بعض دفعہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ MTA کے ذریعہ نخش باتیں پھیلا رہے ہیں اور اس صورت میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ گھیراؤ کر کے آجاتے ہیں، اس جگہ پتھر اؤ ہوتا ہے جہاں MTA دکھائی جا رہی ہے اور یہ ہدایت کا رستہ حکومت کی طرف سے جبراً بند کر دیا جاتا ہے۔یہ کم جگہوں پر ہوتا ہے لیکن جب ہوتا ہے تو تکلیف کا موجب بنتا ہے۔اس صورت حال کو Avoid کیا جا سکتا تھا یعنی اس صورت حال سے انصراف کر کے اپنے مقصد کو