خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد 17 199 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء نکالا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔نیکی کرو اور خدا کے رحم کے اُمیدوار ہو جاؤ۔‘ نیکی کرو تو خود بخود کیوں نہیں آپ نجات پاسکتے یہ بھی تو سوال ہے۔نیکی کرو اور خدا کے رحم کے امیدوار ہو جاؤ۔“ اس کا مطلب ہے کہ نیکی کا پھل اللہ کے رحم کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتا۔ایک شخص یا ایک کسان کی مثال لیں جو زمین میں اچھے پودے لگاتا ہے ، اچھے درخت لگا تا ہے اگر وہ خدا کے رحم کا اُمیدوار نہیں ہوتا اور اپنی محنت پر انحصار کرتا ہے تو بسا اوقات وہ پودے اور اس کی فصلیں پھل سے پہلے ہی برباد ہو جاتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ پھل لگتا ہے تو کڑوا پھل لگتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔بادام دیکھیں کتنی اچھی ایک نعمت ہے اور میٹھے بادام کثرت سے لوگ اپنے دماغ کی طاقت کو بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور بھی بہت سے فوائد ہیں مگر اگر بادام کڑوا ہو جائے تو اس میں ایک ایسا زہر ہے جس سے زیادہ تیز زہر دنیا میں موجود ہی نہیں، بہت ہی زہریلا بن جاتا ہے لیکن وہ اتنی معمولی مقدار میں اس کا زہر ہوتا ہے کہ اگر چہ اس کا کھانا ایک انسان کے لئے ایک عذاب ہے مگر پھر بھی وہ قاتل نہیں ہوتا ، بہت تھوڑا ہوتا ہے۔تو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا: ” اور خدا کے رحم کے اُمیدوار ہو جاؤ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تمہاری نیکی پھل نہیں لاتی اور اللہ کا رحم اس میں شامل حال نہیں ہوتا تب تک تم کسی اچھے آخری نتیجہ کے اُمیدوار نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ کی طرف پوری قوت کے ساتھ حرکت کرو اور اگر یہ نہیں تو بیمار کی طرح افتان و خیزاں اس کی رضا کے دروازہ تک اپنے تئیں پہنچاؤ۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه : 629) بہت ہی دردناک نقشہ کھینچا ہے ان لوگوں کا جو نیکی کر نہیں سکتے مگر بے انتہا خواہش رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچنے کی طاقت نہیں مگر ان الفاظ میں جو نقشہ کھینچا گیا ہے یہ ان کے لئے ایک مشعل راہ بن جاتا ہے لیکن اس سے آگے انشاء اللہ اگلی دفعہ مضمون کو چلائیں گے۔