خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد 17 198 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء اور یہ کوشش ہے جس کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں ، ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہئے نیکی میں ترقی کرنی چاہئے ورنہ خدا ( تعالیٰ) انسان کی مدد نہیں کرتا۔“ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ جو شخص نیکی کی جانب چاہے تھوڑی رفتار سے چل رہا ہو اس کو ضر ور غیب سے مددملتی ہے۔کوئی چیز ٹھہری ہوئی نہیں جب وہ ٹھہر جائے گا تو Stagnant ہونے لگے گا۔اس کے اندر کیچڑ پیدا ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر وہ کیچڑ کی جانب رخ اختیار کر لے گا اور گندے سے گندہ تر ہوتا چلا جائے گا۔یہ ایسا قانون قدرت ہے جس میں کوئی استثنا نہیں ہے۔اب جتنے گندے کیچڑ ہیں ان پہ نگاہ کر کے دیکھیں وہ جتنی دیر ٹھہرے رہتے ہیں اور بد بودار، اور بدبودار ہوتے چلے جاتے ہیں اور جراثیم کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں : ور نہ خدا تعالیٰ ) انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہو جاتا ہے۔“ (الحکم جلد 12 نمبر 16 صفحہ: 6 مؤرخہ 2 مارچ 1908ء) تو یہ ٹھہرنے کے نتائج ہیں۔بعض دفعہ ارتداد اختیار کر جاتا ہے۔بعض دفعہ نہیں بھی کرتا مگر دل کا اندھا ہوتا ہے، اہل بصیرت میں شمار نہیں ہو سکتا۔اس لئے ضروری نہیں کہ ارتداد والا ہی جماعت سے نکلتا ہے بعض لوگ جماعت میں ٹھہرے ہوئے جماعت سے نکل جاتے ہیں۔تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 72 تا 75 پر یہ عبارت درج ہے اس میں سے یہ عبارت لی گئی ہے۔جواب میں پڑھ کر سنانے لگا ہوں۔نیکی کرو اور خدا کے رحم کے اُمیدوار ہو جاؤ۔“ اب اس ایک فقرہ میں بہت سے ایسے لوگوں کی حالت کھول دی گئی ہے جو نیکی نہیں کرتے اور رحم کے امیدوار ہوتے ہیں اور بدنصیبی سے دُنیا کی اکثریت ایسی ہے۔مسلمان ممالک بھی بھرے پڑے ہیں ایسے مولویوں سے جو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ نیکی نہ کرو اور رحم کے طالب ہو، اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے ، بڑا غفور و رحیم ہے ، محمد رسول اللہ صلی ا یتیم شفاعت فرما دیں گے۔یہ بالکل جھوٹ ہے، ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔قرآن کریم کی آیات پر نظر فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نتیجہ