خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد 17 185 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء حِسَابًا ل رَبِّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔یہ جزا ہے تیرے رب کی طرف سے عطا کے طور پر۔عطا میں حساب تو نہیں ہوا کرتا مگر یہاں حساب کا لفظ آیا ہے۔فرمایا ہے: عَطَاء حِسَابَات رَبِّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَنِ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خطابان - (النبا: 36 تا 38) یہ ایسا حساب ہے جو آسمانوں اور زمین کے رب کی طرف سے ہے اور جو کچھ ان میں ہے یہ حساب رحمن خدا دے گا۔لفظ رحمانیت نے بتا دیا کہ بہت آسان حساب ہونے والا ہے اور آسان حساب سے مراد یہ ہے کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے وہ عطا ہوگی ان بندوں کی۔یعنی جو عمل ہے اس سے عطا کی کوئی نسبت ہی نہیں۔مگر اللہ جب حساب فرماتا ہے تو اس قسم کا حساب فرماتا ہے۔اسی کا نام حِسَابًا يسيرًا ہے۔لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خطابا۔وہ خدا تعالیٰ سے خطاب کا حق نہیں رکھیں گے۔کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہوگی اللہ جسے خطاب کی اجازت دے گا اسی کو خطاب کی اجازت ملے گی۔دوسری جگہ فرما یا اِن اِلَيْنَا اِيَا بَهُمْ - جیسا کہ جمعہ کے دوران تلاوت والی سورۃ الغاشیۃ میں بیان ہے إِنَّ إِلَيْنَا اِيَا بَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم - (الغاشية: 27،26) کہ ہمارے ہاتھ میں ان کی باگیں ہیں انہوں نے بہر حال ہماری طرف لوٹ کے آنا ہے۔ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم پھر ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کا حساب کریں اور اس حساب میں سارے نیک و بد شامل ہیں، کوئی بھی ایسا نہیں جو حساب سے خالی ہو جائے گا۔جن کے متعلق بے حساب بخشش کا مضمون احادیث میں بیان ہوا ہے۔اس بے حساب بخشش کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے حساب پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے گی اور آگے گزار دیا جائے گا۔بعض دفعہ جیسے آپ ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو پاسپورٹ نظر آ رہے ہوتے ہیں کن کے پاسپورٹ ہیں۔تو بعضوں کو بس ایک نظر ڈال کے آفیسر کہتا ہے چلونکلو۔تو وہ بھی حساب ہی تو ہے۔بغیر حساب کے کوئی نہیں جاسکتا۔مگر ان معنوں میں بغیر حساب کے جائے گا کہ اس کی چھان بین نہیں ہوگی۔اس کو ایک سرسری نظر کافی ہوگی یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ یہ جنت کا حق دار ہے۔وَ أَمَّا مَنْ أُوتِي كِتبهُ بِشِمَالِه - اب يمينه كا ذکر تو گزر چکا ہے کہ جس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ سے اس کو دی جائے گی لیکن اب شمالہ کا ذکر آئے گا وہ جس کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ سے دی جائے گی۔داہنے ہاتھ سے مراد نیکی کا ہاتھ ہے، سچائی کا ہاتھ ہے تو مراد یہ ہے کہ جس کو اس طرح