خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد 17 171 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء اور کوئی پناہ اس کو نصیب نہیں ہو سکتی۔جو معاملات وہ طے کرتا ہے غور کرے اور ٹھہرے اور سوچے کہ حضرت رسول اللہ سا نا ہی ہم ایسے موقعوں پر کیا تعلیم دیتے ہیں۔وہ تعلیم اس کی حفاظت کرے گی اور اگر کوئی دکھ پہنچ بھی جائے تو اس دکھ کے بداثر سے نجات کے لئے بھی وہی تعلیم ہے جو اثر انداز ہوگی۔مجھے کل ایک فون ملا کہ میرا بھائی، پیارا بھائی فوت ہو گیا۔فلاں دو چھوٹے چھوٹے بچے پیچھے چھوڑ دئے۔فلاں عزیز فوت ہو گیا، فلاں عزیز فوت ہو گیا اب میں کیا کروں۔ان سے میں نے یہی عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اتم کی ہدایات کی پناہ میں آجائیں کیونکہ اس صدمہ کو کم کرنے کے لئے جب تک حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل للہ اسلام کا تصور نہ باندھا جائے یہ صدمہ کم نہیں ہوسکتا بلکہ بلائے جان بن جائے گا اور بجائے اس کے کہ ان لوگوں کو آپ واپس بلا سکیں آپ کو وہاں جانا ہوگا جہاں یہ لوگ پہنچ کر خوش ہیں لیکن آپ خوش نہیں ہوں گے کیونکہ جو آپ نے رویہ اختیار کیا ہے یہ رسول اللہ لیا ایم کی ہدایات کے بالکل برعکس ہے۔آپ سی ایم کو کتنے بے شمار صدمے پہنچے ہیں، ہر صدمہ کے موقع پر آپ صلی ہی ہم اللہ کی پناہ میں آئے ہیں اور یہ پناہ اس یقین سے ملتی ہے کہ یہ دُنیا عارضی ہے اور اُس دُنیا میں ہم نے جانا ہی ہے۔اس لئے ہر صدمہ کے موقع پر سچا صبر اُس دُنیا میں جانے کا سفر آسان کر دیتا ہے اور انسان یہاں رہتے ہوئے بھی ایک قسم کا بے تعلق ہو جاتا ہے۔یعنی بے تعلق ان معنوں میں نہیں کہ دنیا کو بالکل تج کر دے اور چھوڑ دے بلکہ بے تعلق ان معنوں میں ہو جاتا ہے کہ انسان کو اپنے ساتھ ، اپنے اندر بستا ہوا دیکھتا تو ہے لیکن اس کے تصورات، اس کے خیالات ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں اور بنی نوع انسان سے حسن سلوک جاری رکھتا ہے، اس طرح نہیں کرتا کہ الگ ہی ہو جائے۔پس دُنیا میں بھی کامیابی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی ہے۔فلاح دو قسم کی ہے تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم صلی یتم کرنے سے آخرت میں بھی نجات ملتی ہے اور دنیا میں بھی آرام ہوتا ہے۔( پھر فرمایا : ) گناہ خود ایک دکھ ہے۔وہ بیمار ہیں جو گناہ میں لذت پاتے ہیں۔بدی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔بعض شرابیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں نزول الماء ہو گیا، مفلوج ہو گئے، رعشہ ہو گیا، سکتہ سے مر گئے۔خدا تعالیٰ جو ایسی بدیوں سے روکتا ہے تو لوگوں کے بھلے کے لئے۔جیسے ڈاکٹر اگر ( کسی مریض کو ) کسی بیمار کو پر ہیز بتا تا ہے تو اس میں بیمار کا فائدہ ہے نہ کہ ڈاکٹر کا۔“