خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد 17 170 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء 66 فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقوی طہارت پیدا کر لے۔“ پس وہ لوگ تھے جن کا ذکر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے تھے کہ ہماری جماعت میں سے نہیں اور جن جماعت کے لوگوں کو آپ مفلحین کے گروہ میں شمار ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ان کی یہ تفصیل ہے۔”جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو۔اور ترک شر اور کسب خیر ( یعنی شر والی باتوں کو ترک کرنا، اس کو چھوڑ دینا اور کسب خیر ، محنت کر کے اچھی باتوں کو کمانا) کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔(جو معاملہ شروع میں آسان دکھائی دے رہا تھا غور کرو تو کتنا مشکل دکھائی دینے لگ گیا ہے۔) ایمان کوئی آسان سی بات نہیں جب تک انسان مر ہی نہ جاوے جب تک کہاں ہو سکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔“ الحکم جلد 12 نمبر :32 صفحہ: 3 مؤرخہ 10 مئی 1908ء) اب یہ مرجانا پچھلی ساری عبارات سے ظاہر ہے کہ انسان اگر موت ہی عائد کر لے اپنے پر ، غصہ کو کنٹرول کرے، جذبات پر قابو پالے، ہر ترک شرکرے، ہر کسب خیر کرے تو دُنیا سے وہ مر گیا۔ایک نیا وجود ظاہر ہوا ہے جو اس دُنیا میں رہتے ہوئے کسی اور دُنیا میں زندہ ہے۔یہ باتیں ہیں جن کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ انسان مر ہی نہ جاوے تب تک کہاں ہو سکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔“ بدر جلد 7 نمبر 19، 20 مؤرخہ 24 مئی 1908ء صفحہ 5 تا 6 سے ایک اور عبارت بھی لی گئی ہے۔جب انسان محض اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جذبات کو روک لیتا ہے تو اس کا نتیجہ دین و دنیا میں کامیابی اور عزت ہے۔فلاح دو قسم کی ہے تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم صلی ا یہ تم کرنے سے آخرت میں بھی نجات ملتی ہے اور دنیا میں بھی آرام ہوتا ہے۔“ یہ تو ایک ایسی قطعی حقیقت ہے کہ ہر انسان روز مرہ کی زندگی میں اس کو پرکھ سکتا ہے۔جب بھی کسی انسان کو دکھ پہنچنا ہو، خطرات درپیش ہوں تو سوائے رسول اللہ صلی الیتیم کی پناہ کے جو الہی پناہ ہے