خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 165

خطبات طاہر جلد 17 165 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء معرفت کے حصول کے لئے نفس کو صاف کرو حضرت مسیح موعود کے ارشادات کی روشنی میں جماعت کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: وَمَنْ اَرَادَ الْأَخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَبِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مشْكُورًان كُلَّا تُمِدُّ هُؤُلَاءِ وَ هُؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ محظورا پھر فرمایا: بنی اسرائیل: 21،20) یہ آیات ہیں جن کی میں نے گزشتہ خطبہ میں اور اس سے پہلے بھی تلاوت کی تھی اور ان ہی کے تعلق میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کر رہا تھا جبکہ وقت ختم ہو گیا۔اب وہیں سے میں اس مضمون کو اٹھا رہا ہوں اور دوبارہ ان آیات کی کسی تفسیر یا تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ر متقی وہ ہے جو خدا کے نشان سے متقی ثابت ہو۔ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں خدا سے پیار کرتا ہوں مگر خدا سے پیار وہ کرتا ہے جس کا پیار آسمانی گواہی سے ثابت ہو۔اور ہر ایک کہتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے۔مگر سچا مذہب اُس شخص کا ہے جس کو اسی دنیا میں نور ملتا ہے۔اور ہر ایک کہتا ہے کہ مجھے نجات ملے گی مگر اس قول میں سچاوہ شخص ہے جو