خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد 17 164 خطبہ جمعہ 6 مارچ 1998ء سارے اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ایک بھی نہیں رہا جو اس کے ارد گرد اس کی غلامی کا دم بھرتا اور وہ پہلے کی طرح اکیلا رہ گیا بلکہ پہلے سے ذلیل حالت میں رہ گیا۔ تو فرمایا کہ اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم لب کھولو گے تو اسلام کے خلاف ایسی باتیں کرو گے تو میں تم سے کبھی مناظرہ نہ کرتا۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ:171) اب اصل روح اسلام ہے۔ اس شخص کو ذلیل کرنا مقصود نہیں مگر چونکہ وہ مسلسل اسلام کے خلاف بکو اس کئے چلا جا رہا تھا اس لئے دنیا کو دکھانے کے لئے کہ اس کی بکواس میں ذرہ بھی اہمیت نہیں ایک دیوانہ ہے اس لائق ہی نہیں ہے کہ اس کی باتوں کو غور سے سنا جائے آپ نے انتہائی لطیف مزاح کے ذریعہ اسلام کی فتح ثابت فرمادی ۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ٹھٹھے تمسنحر میں مبتلا ہوئے نہایت بے وقوف ہوگا جو یہ سمجھے۔ تمام ایسے مواقع جہاں مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے مزاح سے کام لیا ہے ان کا جائزہ لیں تو آپ کی عقل اور آپ کا دل روشن ہو جائیں گے۔ مزاح ایک بہت ہی اعلیٰ صفت ہے اور جس لطافت سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مزاح کو استعمال فرمایا ہے دنیا کے بڑے بڑے لطیفہ گو بھی آپ کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچتے ۔ پس ٹھٹھے اور تمسخر سے بات نہ کرو کا یہ مطلب ہے۔ اب چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے اب یہ نوٹس سنبھال لیں یہاں سے آگے پھر آئندہ بیان کریں گے۔ انشاء اللہ ۔