خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 159
خطبات طاہر جلد 17 وو 159 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء چاہئے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تا کہ کسی وبا کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے۔( دیکھیں کتنا عظیم کلام ہے۔وبا کو جرات نہ ہو سکے۔) کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر ہو نہیں سکتی۔“ اس خدا کی حفاظت میں آنے کا ایک طبعی نتیجہ ہے جو تمہارے دل میں پیدا ہونا چاہئے اور تمہاری بود و باش میں دکھائی دینا چاہئے۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو۔“ اب یہ جو مسئلہ ہے یہ بھی بہت گھمبیر مسئلہ ہے۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان سے اٹھا دو۔اکثر وہ لوگ جو آپس کے جھگڑوں میں مبتلا رہتے ہیں اور جوش اور عداوت کو درمیان سے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے یا کوشش نہیں کرتے وہ خدا کے عزیزوں میں داخل نہیں کئے جاتے۔اب وہ وقت ہے کہ تم ادنی باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔“ الحکم جلد 2 نمبر 12، 13 صفحہ:10 مؤرخہ 20 و27 مئی 1898ء) پس بار بار میں آپ کو سمجھاتا ہوں اور سمجھاتا رہوں گا کہ ان باتوں کا اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر ہم خدا کے امن کے سائے تلے نہیں آسکتے لیکن امن کے سائے تلے آنا مقصد نہیں ہے۔وہ ہوتا ہے۔بظاہر کوئی امن کا سایہ دکھائی نہ دے۔مرد وہ ہے جو اس وقت اپنے آپ کو آگے بڑھ کر جھونک دے اور ہر کہ بادا باد جو کچھ بھی اس پہ گزرے اس کی پرواہ نہ کرے کیونکہ دین کی محبت اور دین کی لگن اور دین کی خدمت کی خواہش اس کے دل میں ایسے زور سے اٹھے کہ اس سے وہ بے اختیار ہو جائے۔یہ خواہش اگر آپ کے دل میں پیدا ہو چکی ہے تو آپ وہی ہیں جن کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ کلام فرما رہے ہیں۔اگر ابھی تک یہ خواہش اس زور سے نہیں اٹھی جیسے ایک شعلہ ہو جو رفتہ رفتہ آگ لگا دے اس وقت تک یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کو آپ سن کے سمجھ تو سکتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اس لئے وقت ہے کہ ہر شخص اپنے نفس پر اس طرح غور کرے، تفصیل سے اپنا جائزہ لے اس کے نفس کا کوئی پہلواندھیرے میں چھپا نہ رہے۔پھر فرماتے ہیں :