خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد 17 158 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء سے سمجھ آجاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے خدا کے ایسے بندے جو دن رات خدمت میں مصروف ہیں ان کو وہ آفات نہیں چھوتیں جو ان کے ساتھ رہنے والوں کو چھوتی ہیں۔بہت سے، کثرت سے ایسے گواہ جماعت میں موجود ہیں کہ انہوں نے پرواہ نہیں کی کہ کیا گزرے گی، اُن پر کیا گزرے گی، اُن کے بچوں پر کیا گزرے گی، دینی ضروریات کو انہوں نے اہمیت دی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو بھی سنبھالا ، اُن کے بچوں کو بھی سنبھالا۔ایسے واقعات بھی آپ کی نظر میں ہوں گے کہ گویا وہ نہیں سنبھالے گئے اور ان پر آفات نے حملہ کر دیا مگر دلوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔کیوں آفات نے حملہ کیا اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے مگر یہ بات سچی ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر اپنی دُنیا کو ترک کر دیتے ہیں اور اُس کی دُنیا کو اپنا لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی دُنیا کی حفاظت فرماتا ہے اور جو قانون قدرت ہے کچھ نہ کچھ گزند دنیا کی آفات کا پہنچتا ہے وہ تو صحت مند پودوں کو بھی پہنچا ہی کرتا ہے۔بعض دفعہ آندھیاں چلتی ہیں کئی قسم کے سیلاب آتے ہیں اور دُنیا میں صحت مند پودے بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں کسان اُن کو نہیں بچا سکتا مگر اللہ تعالیٰ اُن کو جس حد تک چاہے بچاسکتا ہے اور بچاتا ہے مگر کچھ نہ کچھ گزند چکھنے کے طور پر اُن کو ضرور ملتا ہے اور یہ مضمون ایسا ہے جس کا قرآن کریم نے تفصیل ذکر فرمایا ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اگر دین کی خدمت میں مصروف ہو جائیں گے تو آپ کو دُنیا کی بیماریاں نہیں چھوئیں گی۔اگر اس خیال سے آپ مصروف ہوں گے کہ دُنیا کی بیماریاں نہ چھوئیں تو وہ ضرور چھوئیں گی۔یہ نکتہ ہے جو آپ کے سمجھنے کے لائق ہے۔اگر ان حالات پر غور کر کے آپ یہ سودا کر کے آگے بڑھیں کہ میں نے اپنے بدن کی ، اپنے بچوں کے بدن کی حفاظت کرنی ہے اس لئے میرے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ میں دین کی خدمت میں مصروف ہو جاؤں تو یہ ارادہ آپ کے کام نہیں آئے گا۔اگر دین کی خدمت میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ جانتے ہیں کہ بیوی بچوں کا کوئی محافظ نہیں رہا اس وقت اللہ ان کی حفاظت فرمائے گا۔پس یہ وہ سارے حالات ہیں جو پیچ در پیچ ہیں جن پر بندے کی نگاہ نہیں ہوتی اور دلوں کی کیفیات کو دوسرا انسان نہیں پڑھ سکتا مگر اللہ پڑھتا ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام بالکل سچا ہے اور اس کو اپنے اوپر سچا ثابت کرنے کے لئے اُن مراحل سے گزرنا ہوگا جن مراحل کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تفصیل سے ذکر فرماتے ہیں: