خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد 17 132 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء جو میرے اس وقت مخاطب تھے اگر چہ ان کے نام نہیں لئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس جماعت کی طرف لوٹ آئے ہیں اور جو ان کے کوٹنے کا انداز ہے ، جو خطوط مجھے موصول ہوئے ہیں میرا دل یقین سے بھر گیا ہے کہ یہ تو بہ ان کی سچی تو بہ ہے اور آئندہ انشاء اللہ ان کی طرف سے مجھے دکھ نہیں دیا جائے گا۔اس وقت مجھے ان کے خطوط پڑھتے ہوئے جو خوشی محسوس ہورہی تھی اس خوشی نے ساری تلخیوں کو بھلا دیا اور آنحضرت سلام کی وہ حدیث قدسی یاد آ گئی جس میں اللہ تعالیٰ کے تو بہ کرنے والے بندوں کے ساتھ رد عمل کا ذکر ہے۔آنحضرت صلی ایام فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک انسان صحرا میں ستانے کے لئے ایک درخت کے سائے تلے لیٹ جاتا ہے اور بظاہر اپنے اونٹ کو محفوظ طریق پر جیسا کہ گھٹنے باندھے جاتے تھے تمام احتیاطوں کے ساتھ الگ بٹھا دیتا ہے۔اس پر اس کا پانی، اس کا زاد راہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن جب شام کے وقت یا دو پہر گزرنے کے بعد اس کی آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ اونٹ غائب ہے۔اونٹ بھی غائب ہے ، زادراہ بھی غائب ہے۔جو کچھ اس کا اثاثہ تھا ، جو کچھ زندگی کو قائم رکھنے کے لئے ضرورتیں تھیں جو صحرا میں سب سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوا کرتی ہے وہ سب کچھ غائب ہو گیا۔ایسا شخص اگر دور افق پر نگاہ دوڑائے اور ہر طرف دیکھے کہ کہیں بھی اس اونٹنی کی واپسی کے آثار دکھائی دیں۔(صحیح مسلم ، كتاب التوبة باب فى الحض على التوبة والفرح بها ، حدیث نمبر :6955) اس موقع پر حضور انور کی آواز جذبات سے گلو گیر ہوگئی چنانچہ آپ نے فرمایا : ) جو میرا دل جذبات سے اُبل رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے تصور سے کہ اللہ اس طرح اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔اب اگر وہ لوگ جو تو بہ کے محتاج ہیں ان کو یہ معلوم ہو کہ اللہ ان کا اس طرح انتظار کر رہا ہے تو بھاری تعداد تو بہ کرنے والوں کی ہے جو لیکے گی اس طرف تو اس سے زیادہ خوبصورت مثال تو بہ کرنے والے اور توبہ قبول کرنے والے کے رشتہ کی اور آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔وہ بندہ محتاج اور مجبور جس سے کچھ کھویا جاتا ہے جتنا اس کے کھوئے جانے کی تکلیف اس کو ہوتی ہے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے کھوئے جانے کی تکلیف ہوتی ہے۔ان معنوں میں کہ ان کے زیاں کا افسوس ہوتا ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کا کوئی دل ہے یا اس میں زیاں کے افسوس کی وہی کیفیت ہے جو ہماری ہے مگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اتنا ہی تم نے تمثیلات کے ساتھ انہیں اس طرح بیان کیا کہ ہم میں سے ہر ایک کے