خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد 17 117 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء احساس کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔برتری اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور انسان اسے خدا تعالیٰ کی رضا کے دائرہ میں استعمال فرمائے تو اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن یہ برتری تکبر یا نخوت کا رنگ اختیار کرلے تو جس حد تک وہ تکبر اور نخوت کا رنگ اختیار کرتی ہے اسی حد تک خدا کی عظمت اس سے اٹھ جاتی ہے اس حد تک اس کے دل پر وہ سایہ نہیں کرتی۔66 یا در کھوسب اللہ کے بندے ہیں کسی پر ظلم نہ کرو۔“ اب ظلم کرنے کا خیال یا واہمہ انسان کے دل میں اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب عظمت نہ ہو یعنی اللہ کی عظمت نہ ہو۔اللہ سر پر کھڑا ہو اور اس کی عظمت جلوہ گر ہو تو ہو کیسے سکتا ہے کہ اس کے کسی بندہ پر کوئی انسان ظلم کا سوچے بھی۔نه تیزی کرو، نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔“ اب ظلم کے بعد جو تیزی ہے یہ بہت اہم لفظ ہے جو یا درکھنے کے لائق ہے۔ظلم اور تیزی ایک دوسرے سے اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں۔ظلم کا خیال اگر آ جائے اور انسان اس کو مٹادے تو وہ ظلم نہیں لیکن ظلم کے ساتھ جب طبیعت کی تیزی داخل ہو جائے۔ادھر غصہ آیا اور ادھر غصہ کا کوئی بدنتیجہ کسی دوسرے انسان پر ظاہر کر دیا جائے یہ تیزی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام الفاظ کے اختیار میں بہت بار یک نظر رکھتے ہیں اور بڑے علم کے ساتھ الفاظ کو ایک دوسرے کے بعد سجاتے ہیں۔کسی پر ظلم نہ کرو، نہ تیزی کرو۔اب کسی عام آدمی کے دماغ میں یہ خیال آہی نہیں سکتا۔یہ صاحب عرفان وجود کا کلام ہے اور اب آپ تیزی کو ظلموں کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو آپ کو تمام دنیا میں فسادات کا فلسفہ سمجھ آجائے گا۔ہر فساد، ہر ظلم تیزی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اگر انسان رک جائے اور فوری اثر نہ دکھائے اور اپنی تیزی کو کند کر دے یعنی اپنے علم کے ساتھ یا خدا خوفی کے ساتھ تو دنیا فساد سے خالی ہو جائے گی۔ساری دنیا میں تیزیاں ہیں جود کھائی جارہی ہیں۔نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔اگر اللہ کے بندے ہیں اور تم نے پہچان لئے ہیں کہ اللہ کے بندے ہیں تو جو بھی دین ہے وہ اللہ کی دین ہے۔اگر اس نے چھوٹا پیدا کیا تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ ایسے بندے کو حقارت سے دیکھو۔ایسے بندے کو رحم سے دیکھنا چاہئے اور خدا کا خوف کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہئے کہ جو ظاہری بڑائی تمہیں ملی ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم اس حقیر بظاہر حقیر بندے کی طرف منتقل کردو۔