خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 116

خطبات طاہر جلد 17 116 خطبہ جمعہ 20 فروری 1998ء ہر عمل جو اس سے ظاہر ہوتا ہے اس پر غور کر کے دیکھے گا کہ یہ عمل کہیں آگ کے قریب تو نہیں کر رہا اور اگر وہ سوچے اور بیدار رہے اور جان لے کہ واقعہ یہ عمل آگ کے قریب کر رہا ہے تو دُنیا کی آگ کے قریب ہونے کے اپنے تجربہ کو ذہن نشین کر کے دیکھ سکتا ہے کہ آگ ہے کس غضب کا نام کس بلا کو آگ کہتے ہیں اور وہ آگ جو قیامت کے دن بھڑکائی جائے گی وہ اس سے بہت زیادہ شدید ہے جو اس دُنیا کی آگ ہے اور اس آگ کا تجربہ ہم رکھتے ہیں اگر چہ غفلت کی حالت میں وہ تجربہ کرتے ہیں۔ان امور کو یا درکھنے کا طریقہ کیا ہے ان امور سے جو بیان ہوئے ہیں فائدہ اٹھانے کا طریقہ کیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک خدا کے خوف کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔جو انسان خدا کو غالب اور قادر سمجھے وہ اس سے ڈرتے ڈرتے زندگی بسر کرے گا۔فرمایا: اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو اور یادرکھو 66 کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔“ دیکھیں یہ باتیں کتنی سادہ، کتنی پیاری کتنی روزمرہ کے تجربہ کی باتیں ہیں اور ایسی حقیقتیں ہیں جن کے دل میں جگہ پکڑنے کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔”خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو اور یاد رکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔تمہاری بیویاں، تمہارے بھائی ،تمہاری بہنیں، تمہاری بیٹیاں یا بیویوں کے خاوند اور سب رشتہ دار اور وہ جو رشتہ دار نہیں بھی ہیں تمام انسان سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔یہ احساس ہے جو دل میں جاگزیں ہونا ضروری ہے اور اس احساس کو اللہ کے خوف میں تبدیل کر دو۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو۔“ اللہ کی عظمت کے نتیجہ میں دیکھو کہ ان سب پر تمہاری کیا فضیلت ہے۔جو کچھ تھوڑی سی برتری کسی کو کسی اور پہ نصیب ہوئی ہے وہ سوائے اللہ کے فضل کے اور اس کی عظمت کے ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کو نصیب ہوتی۔تو انسان اپنی خوبیوں سے ایک طرح سے تہی دست ہو جاتا ہے، انسان اپنی مملکتوں سے ایک طرح سے تہی دست ہو جاتا ہے اس کی بڑائیاں ، دُنیا میں اچھے گھر میں پیدا ہونا یا اس کا کسی غریب کے گھر میں پیدا ہو جانا یہ چیزیں اس کے دل میں بنی نوع انسان میں تفریق نہیں کرتیں کیونکہ توحید تفریق ہونے نہیں دیتی اور خدا کی عظمت کا یہ معنی ہے کہ جب اس کی عظمت دل پر راج دھانی شروع کر دے تو ہر دوسرا انسان اسی راج دھانی کے اندر ایک وجود دکھائی دیتا ہے اور اس پر کسی برتری کے