خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 115
خطبات طاہر جلد 17 115 خطبہ جمعہ 20 فروری 1998ء ایک موت وارد کر لے گا۔یہ مقدر ہے اس عمل سے کوئی شخص متقی نہیں ہے۔وَ إِنَّمَا تُوَفُونَ أجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ اس میں یہ خوشخبری ہے کہ قیامت کے دن تمہیں بھر پور اجر دیا جائے گا لیکن اس دنیا میں نئی زندگی کی صورت میں اجر دیا جا چکا ہوتا ہے۔اگر وہ نہ ہو تو قیامت کے دن بھر پورا جر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس اس نئی پیدائش کے بعد اگر وہ شیطانی پیدائش ہے یعنی شیطانی موت کے نتیجہ میں ایک بظاہر زندگی ملتی ہے تو اس کا بھی بھر پور اجر قیامت کے دن دیا جائے گا اور اگر روحانی موت تھی خدا کی خاطر اور روحانی زندگی تھی جو اس موت کے بعد لازماً عطا ہوئی تھی تو اس کا بھی بھر پورا جر قیامت کے دن دیا جائے گا۔اور پہچان یہ ہوگی فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فقد فاز اس وقت جو آگ سے دور کیا جائے گا آگ سے بہت دور رکھا جائے گا اور جنت میں داخل کیا جائے گا وہی ہے جو کامیاب ہوگا اور فقد فاز کا مطلب ہے یقیناً کامیاب ہوگا اس کی کامیابی میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہ فرمانے کے بعد یہ تنبیہہ ہے وَ مَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ دھوکے کی زندگی ، دھوکے کی منفعتیں ہیں جن میں تم مبتلا ہو جاتے ہو اور اس دُنیا میں اس دھو کے کے فوائد کے سوا ، جو فوائد دکھائی دیتے ہیں مگر دھو کے ہوتے ہیں، ان کے سوا اس زندگی کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔پس اس آیت کی تشریح تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے تھے اور اس آیت کے ساتھ اس مضمون کا ایک گہرا، نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے۔اب یہ ساری باتیں تو بہت پیاری باتیں ہیں، بہت دل چاہتا ہے انسان کا کہ میں ان لوگوں میں شمار ہو جاؤں جنہیں اس دُنیا میں ہی نئی زندگی مل جائے اور قیامت کے دن آگ سے دور کیا جاؤں لیکن آگ سے دور کیا جانا بھی ایک ایمان کو چاہتا ہے۔جس کو آگ پر ایمان نہیں وہ آگ سے دور نہیں کیا جائے گا۔جس کو یقین نہیں ہے کہ جس آگ کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے وہ ضرور بھڑکائی جائے گی اور جس کو آگ کی گرمی اور تمازت کا تجربہ نہیں اور تجربہ ہے تو غافل آنکھوں سے وہ اس آگ کو دیکھتا ہے اور غافل دل سے اس کو محسوس کرتا ہے، ایسا شخص قیامت کے دن آگ کو دیکھے گا اور وہ جس طرح أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ہے، اُدْخِلَ النَّارِ وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔اس لئے یہ ایمان بھی تو ضروری ہے کہ جیسے جنت حق ہے ویسے جہنم بھی ایک حق ہے اور جس کو یہ یقین ہو جائے کہ قرآن کریم کی یہ باتیں سچی ہیں وہ لازماً آگ سے دور ہٹنا شروع ہو جائے گا اور اس کی باقی زندگی آگ سے دوری کا ایک سفر ہوگی۔