خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد 17 104 خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء مقابل پر ایسا ہے کہ دوسرے منہ کی باتیں زمین سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ آسمان سے تعلق رکھتی ہیں لیکن آسمان سے تعلق کے باوجود آسمان سے اس طرح اترتی ہیں جیسے رحمت باراں اتر رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پیغمبر الوہیت کے مظہر اور خدا نما ہوتے ہیں۔“ پیغمبر الوہیت کے مظہر ، اللہ تعالیٰ کے مظہر، اس کی خدائی کے مظہر اور خدا نما ہوتے ہیں اور خدا دکھانے والے ہوتے ہیں۔پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے جو پیغمبروں کا مظہر بنے۔“ اب اس سے زیادہ کھلا، واضح معیار اور کیا آپ کے لئے مقرر کیا جاسکتا ہے۔پیغمبر کو تو سب جانتے ہیں بعض لوگ خود نہ جانتے ہوں تو مولویوں کی مبالغہ آمیز تقاریر سے پیغمبروں کے متعلق عجیب عجیب تصور باندھ لیتے ہیں مگر یہ جوڑ بھول جاتے ہیں کہ اگر پیغمبر خدا نما ہیں تو تم پیغمبر نما ہو۔وہ سب کچھ کر کے دکھانا ہوگا ایسے حال میں زندگی بسر کرنی ہوگی کہ لوگوں کو پیغمبر یاد آئیں۔یہ ایک فقرہ ہے اس میں ساری زندگی کی کہانی آگئی ہے۔پیغمبر الوہیت کے مظہر اور خدا نما ہوتے ہیں پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے جو پیغمبروں کا مظہر ہے“۔اور یہ ایک فرضی پیغام نہیں اس کو حقیقت پر چسپاں کر کے دکھاتے ہیں۔صحابہ کرام (رضوان الله علیهم ) نے اس راز کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ رسول کریم صلی للہ الی یلم کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھوئے گئے کہ اُن کے وجود میں اور کچھ باقی رہا ہی نہیں تھا جو کوئی اُن کو دیکھتا تھا اُن کو محویت کے عالم میں پاتا تھا۔“ آنحضرت صلی السلام کے کبار صحابہ کی اس سے بڑھ کر تعریف نہیں ہو سکتی۔جو کوئی اُن کو دیکھتا تھا محویت کے عالم میں پاتا تھا۔دونوں جہان سے وہ گزر چکے تھے پیغمبر صل للہ ہی ان کی ذات میں ڈوب چکے تھے۔پس یا درکھو کہ اس زمانہ میں بھی جب تک وہ محویت اور وہ اطاعت میں گمشدگی پیدانہ ہوگی جو صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم) میں پیدا ہوئی تھی ، مریدوں ، معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہوگا۔یہ بات اچھی طرح پر اپنے ذہن نشین کر لو۔“ جو صحابہ کرام میں آنحضرت صلی للہ ایلم کے لئے اپنی ذات کی محویت تھی کہ اپنی ذات سے بھی کھوئے گئے تھے اور دُنیا سے بھی کھوئے گئے تھے، صرف سامنے ایک نمونہ تھا جو پیغمبر صلی یہ اہم کا نمونہ تھا۔فرمایا