خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد 17 103 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء لوگوں کے سہارے جیتے ہیں وہ بڑے لوگ بڑے لوگ نہیں رہتے۔غرض یہ کہ سارے مضامین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام میں مضمر ہیں کہ تم جب دُنیا والوں کو اپنا خدا بنا کر ان کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ تمہاری ساری زندگی کام نہیں آسکیں گے۔” اور عمر کے آخری دن بڑے غم اور غصہ کے ساتھ گزریں گے۔یہ بات بھی ان سب ملکوں میں جو اکثر تیسری دُنیا کے ملک ہیں مشاہدہ کی جاسکتی ہے اور بڑے ملکوں میں بھی مشاہدہ کی جاسکتی ہیں کہ حکومتوں سے ٹوٹے ہوئے ، گرے ہوئے لوگ جو کسی زمانہ میں زبردست ہوا کرتے تھے جن کے رعب سے خلقت کا نپتی تھی وہ بڑے غم وغصہ میں آخری دن بسر کرتے ہیں۔ان کا کوئی بھی اختیار باقی نہیں رہتا۔بے چین اور بے قرار پھرتے ہیں۔اگر کوئی ان کے سینہ میں جھانک سکتا تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے غم اور غصہ کے سوا وہاں کچھ نہ پاتے۔اور جہاں تک متقیوں کا تعلق ہے فرمایا: خدا اُن لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اُس کے ساتھ ہو جاتے ہیں سوخدا کی طرف آجاؤ۔“ اب اس سے زیادہ بڑی پناہ اور کیا ہوسکتی ہے اور اس سے زیادہ پاکیزہ اور پیارا بلا وا اور کیا ہوسکتا ہے۔یہ ساری باتیں کھول دیں اور آخر پر فرمایا : خدا کی طرف آجاؤ۔اور ہر ایک مخالفت اس کی چھوڑ دو۔“ یعنی وہ سارے امور جو بیان ہوئے ہیں وہ دراصل اللہ کی مخالفت ہیں اور اگر وہ تم کر کرو گے تو گویا خدا کے مخالف ٹھہرو گے۔سوخدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اُس کی چھوڑ دو اور اُس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اُس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو کہ یہی راہ نجات کی ہے۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحه : 70 تا 72) اب بعض دوسرے اقتباسات ہیں جو میں اسی تسلسل میں بیان کرتا ہوں اور جب تک یہ اقتباس ختم ہوتے ہیں اتنی دیر میں ہم انشاء اللہ اور اقتباس اکٹھے کر لیں گے۔اگر ساری عمر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پر ہی خطبے دئے جائیں تو جماعت کے لئے اس سے زیادہ خوشخبری کوئی نہیں ہو سکتی۔ایک ایسے پیارے انداز کی نصیحت ہے کہ دوسرے منہ کی باتوں کے